سامیہ سلوہو حسن، پہلی مسلم افریقی خاتون سربراہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260117-03-3
امیر محمد کلوڑ
۔27 جنوری 1960، ایک استاد کے گھر ایک بیٹی نے دنیا میں قدم رکھا جو بعد میں سات کروڑ سے زائد آبادی والے افریقا کے پانچویں بڑے ملک، متحدہ جمہوریہ تنزانیہ کی صدارت پر فائز ہوئیں یہ وہ ملک ہے جہاں زیادہ تر لوگ عیسائیت سے تعلق رکھتے ہیں اور تقریباً سوا دو کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ لیکن اس ملک کی قیادت مسلم خاتون سامیہ سلوہو حسن کر رہی ہیں، جو 2021 سے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ ایک فعال مسلمان ہیں اور صدر بننے کے موقع پر حلف برداری میں اسکارف پہن کر اسلامی شناخت کا عملی اظہار کیا۔ سامیہ سلوہو حسن ذاتی زندگی میں نماز، روزہ اور اسلامی اخلاقی اصولوں کی پابند ہیں۔ میڈیا رپورٹوں اور انٹرویوز کے مطابق وہ دعائیہ اور روحانی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتی ہیں، خاص طور پر ملک کی قیادت اور اہم فیصلوں کے وقت۔ وہ تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر ہونے کے علاوہ تنزانیہ میں پیدا ہونے والی پہلی صدر بھی ہیں۔ یہ ان کے ملکی اور مقامی شناخت کو مزید مضبوط بناتا ہے اور عوامی تعلق میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔
صدر جان ماگوفولی کا انتقال 2021 میں دل کی پیچیدگیوں کے باعث ہوا تھا، تنزانیہ کے آئینی آرٹیکل 37 (5) کے مطابق نائب صدر سامیہ سلوہو حسن نے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا وہ 2021 سے 2025 تک پہلی مدت میں صدر رہیں۔ پھر انہوں نے اکتوبر 2025 کے باقاعدہ الیکشن میں حصہ لیا اور دوبارہ منتخب ہوئیں اور وہ اب 2030 تک اس عہدے پر براجمان رہیں گی۔ ان میں اور ہمارے پاکستان کے سابق صدر مملکت میں ایک چیز مشترکہ تھی حالانکہ ’’دو مختلف براعظم، دو مختلف کہانیاں، مگر ایک شاندار اتفاق: صدر پاکستان غلام اسحاق خان اور صدر تنزانیہ سامیہ سلوہو حسن، دونوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز محض ایک کلرک کے طور پر کیا، اور پھر ملک کے سب سے بڑے اور اہم عہدے پر پہنچے‘‘۔ افریقا میں کوئی مسلمان خاتون کبھی اتنے بڑے عہدے پر فائز نہیں رہیں۔ ان کی صدارت نہ صرف تاریخی بلکہ امید افزا لمحہ ہے۔ آج کل چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے تنزانیہ کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ 9 جنوری 2026 سے 10 جنوری 2026 تک دو روزہ دورہ ڈوڈوما؍ دارالسلام میں ہوا، جہاں انہوں نے صدر سامیہ سلوہو حسن سے ملاقات کی۔ اس دورے میں وانگ یی نے چین کے صدر شی جن پنگ کے پیغام؍ سلام بھی صدر سامیہ حسن کے سامنے پیش کیے۔
دارالسلام، تنزانیہ کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے۔ دار السلام کو 1860 کی دہائی میں عرب تاجروں نے قائم کیا۔ نام عربی میں ’’دار السلام‘‘ امن کا گھر رکھا گیا۔ 1890 میں جرمن ایسٹ افریقا نے دارالسلام پر قبضہ کیا۔ جرمنوں نے شہر کو جدید بندرگاہ اور انتظامی مرکز میں تبدیل کیا۔ اس دور میں سڑکیں، ریلوے اور بندرگاہیں بنیں، جس سے شہر تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ آج بھی تجارت اور امن کے جادو سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں کی مسلمانوں کی آبادی تقریباً 35 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں چھائی ہوئی ہے۔ شہر کی بندرگاہ افریقا کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔ سامیہ حسن کی قیادت میں تنزانیہ نے معاشی، تجارتی اور بین الاقوامی تعلقات میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ مسلمان کاروباری، جو دارالسلام اور ساحلی علاقوں میں سرگرم ہیں، تجارت، زرعی پیداوار اور سروس سیکٹر میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ کا دورہ اس بات کی تصدیق ہے کہ تنزانیہ اب عالمی تجارتی اور سیاسی منظرنامے پر ایک مضبوط اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔
سامیہ حسن کی قیادت نہ صرف تنزانیہ بلکہ مسلم دنیا اور افریقا میں خواتین کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کی صدارت نے یہ ثابت کیا کہ مذہب یا جنس کسی بھی شخص کی قیادت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک مسلم خاتون کس طرح ایک ملک کی سیاسی اور اقتصادی تقدیر بدل رہی ہے اور کس طرح عالمی تعلقات اور ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ سامیہ سلوہو حسن کی صدارت میں تنزانیہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جو تاریخی، اقتصادی اور سیاسی اہمیت کے حامل ہے۔ ان کی حکومت نے میڈیا اور سیاسی مکالمے پر سے پابندیاں ہٹانے کی کوششیں کی ہیں، جس سے تنزانیہ میں سیاسی ماحول کچھ کھلا محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں، خاص طور پر ریلوے اور سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی ہے۔ زراعت، سیاحت اور صنعت جیسے شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی تربیت پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کے دورِ صدارت میں تنزانیہ کے عالمی تعلقات اور داخلی ترقی کا عمل مزید مضبوط ہو رہا ہے اور چین کے تنزانیہ عالمی سطح پر مستحکم، فعال اور ترقی پذیر ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی قیادت کی صدارت انہوں نے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔