پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع
موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میچز کے اوقات تبدیلی کرنے کے فیصلے کا جلد باضابطہ اعلان متوقع ہے، موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹونٹی میچز سہہ پہر 4 بجے شروع ہوں گے، میچز کا ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ہو گا۔پہلے شیڈول کے مطابق میچز کا آغاز چھ بجے ہونا تھا اور ٹاس ساڑھے پانچ بجے ہونا تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلی جائے گی۔ ٹی ٹونٹی میچز 29 جنوری، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے۔ یہ سیریز آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء سے قبل دونوں ٹیموں کے لیے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے، ورلڈ کپ میں پاکستان گروپ اے جب کہ آسٹریلیا گروپ بی میں شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اوقات تبدیل ا سٹریلیا ٹی ٹونٹی ہوں گے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔