سرکاری اسکولوں کے نئے اوقاتِ کار کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور :پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں کے لیے نئے اوقاتِ کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جو 19 جنوری سے 15 اپریل 2026 تک نافذ العمل رہیں گے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اوقات موسم اور تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سنگل شفٹ اسکولوں میں پیر سے جمعرات تک طلبہ کے لیے تدریسی اوقات صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بج کر 15 منٹ تک ہوں گے، جبکہ جمعہ کے روز کلاسز صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بج کر 30 منٹ تک جاری رہیں گی۔
ڈبل شفٹ اسکولوں کے حوالے سے جاری ہدایات میں بتایا گیا ہے کہ مارننگ شفٹ کے اوقات صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہوں گے جبکہ آفٹر نون شفٹ دوپہر 2 بج کر 15 منٹ سے شام 4 بج کر 45 منٹ تک چلائی جائے گی۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق اساتذہ کے لیے پیر سے جمعرات تک کے اوقات میں صرف تدریسی ذمہ داریاں ہی نہیں بلکہ نصابی تیاری، پیشہ ورانہ تربیتی سرگرمیاں اور کنٹینیوس پروفیشنل ڈیولپمنٹ (CPD) پروگرامز میں شرکت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام اساتذہ کو ان تربیتی اور نصابی سرگرمیوں میں شرکت کرنا ہوگی۔
مزید یہ کہ اساتذہ کی حاضری متبادل ہفتہ (Alternate Saturday) کے روز بھی لازمی ہوگی تاکہ تدریسی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور اساتذہ کو تعلیمی بہتری کے لیے اضافی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کا کہنا ہے کہ نئے اوقاتِ کار کا مقصد طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو مؤثر اور متوازن بنانا ہے جبکہ اساتذہ کو تدریسی تیاری اور جدید تربیت کے بہتر مواقع فراہم کرنا بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ محکمہ کے مطابق اس اقدام سے کلاس روم میں تدریسی معیار بہتر ہوگا اور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
محکمہ نے اساتذہ اور طلبہ دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ نئے اوقاتِ کار کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی اور نظم و ضبط کے ساتھ ادا کریں تاکہ تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نئے اوقات کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔