پارکوں میں ریسٹورنٹ بن سکتے ہیں نہ پیڈل کورٹس، ناصر باغ پر تحفظات دور کئے جائیں: ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
لاہور (خبرنگار) ہائیکورٹ میں سموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت ممبر جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ جمع کرائی کہ پی ایچ اے نے مساجد کے ساتھ اڑتیس واٹر ٹینکس کو فعال کر دیا۔ آٹھ انڈسٹریل یونٹس نے اپنا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ فعال کر دیا۔ ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کی پینتیس بسز میں سے تیس بسز کی وکس سرٹیفکیشن ہو چکی ہے۔ وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ داتا دربار کے سامنے سڑک کی توسیع کے نام پر درخت کاٹے جا رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان درختوں کو کاٹا تو نہیں جائے گا۔ وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ نہیں صرف ان درختوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔ عدالت نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ہدایت کہ آپ اس معاملہ کو خود جا کر دیکھیں۔ وکیل پی ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ ایک این جی او کو بھی درختوں کے حوالہ سے انگیج کیا گیا۔ عدالت نے احکامات جاری کیئے کہ پارکس میں پی ایچ اے پیڈل کورٹس وغیرہ بنانا بند کرے۔ عدالت نے احکامات جاری کیے کہ پارکس میں نہ ریسٹورنٹس بن سکتے ہیں نہ پیڈل کورٹس۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ منی مارکیٹ والا پارک بہت خوبصورت تھا، میں نے متعدد بار بولا ہے اسے ریسٹور کیا جائے۔ عدالت نے پی ایچ اے وکیل کو حکم دیا کہ ناصر باغ کے حوالہ سے جو سول سوسائٹی کے تحفظات ہیں ان کو دور کیا جائے۔ عدالت نے احکامات جاری کیے کہ آٹھ سو پارکس میں کوئی بھی کام ہو تو اسے پہلے ممبران جوڈیشل کمیشن سے ڈسکس کیا جائے۔ عدالت نے سماعت اگلے ہفتہ تک تک کے لیئے ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن پی ایچ اے عدالت نے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔