بچوں کی سوشل میڈیا رسائی سنگین مسئلہ، واضح قانون سازی، کثیر ادارہ جاتی تعاون ناگزیر: ارکان سینٹ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) ایوان بالا نے وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثناء اللہ کی جانب سے پیش کئے تین مختلف بلز کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا۔ سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ٹریول ایجنسی، پاکستان ٹورسٹ گائیڈز اور پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس (ترمیمی) پیش کئے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹر جان محمد بلیدی کے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کے احاطہ میں کسی قسم کے آپریشن کی کوئی بات درست نہیں۔ طارق فضل نے ایوان بالا کو بتایا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک بڑھتی ہوئی اور غیر منظم رسائی ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے تمام ریاستی اداروں کو مشترکہ اور جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ سینیٹر فلک ناز اور دیگر کی جانب سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ اور غیر نگرانی شدہ استعمال کے حوالے سے پیش کئے گئے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہے اور نہ ہی اسے کسی ایک دور، ایک حکومت یا کسی ایک فریق تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپوزیشن اور حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے۔ اور اب تک کوئی بھی ملک اس کا مکمل یا مثالی حل تلاش نہیں کر سکا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگرچہ کئی سوشل میڈیا ایپس میں عمر کی تصدیق کے نظام موجود ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کمزور ہے جس کے لئے واضح قانون سازی اور کثیر الادارہ تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینٹ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرے تو حکومت اس کی مکمل حمایت کرے گی، ایسی کمیٹی بچوں کو ڈیجیٹل نقصانات سے بچانے کے لئے ایک متحد، قومی اور جامع پالیسی مرتب کر سکتی ہے۔ اس سے قبل توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ لاکھوں کم عمر بچے بغیر نگرانی کے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، وی پی این اور دیگر پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔ حالیہ افسوسناک واقعات جن میں ثناء یوسف کا کیس بھی شامل ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر منظم سوشل میڈیا استعمال بچوں کی جان، ذہنی صحت اور سماجی نشوونما کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز: کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی، تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔