محمود خان اچکزئی کو نواز شریف کے کہنے پر اپوزیشن لیڈر بنایا گیا، کامران مرتضیٰ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری نواز شریف نے کرائی۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے بعد قائم ہونے والی ڈیڈلاک مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے کردار کے باعث ختم ہوئی۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری نواز شریف نے کرائی۔ محمود خان اچکزئی نے نواز شریف سے براہ راست رابطہ کیا تھا۔ نواز شریف نے بھی اپنے اندر کا غصہ نکالنے کے لئے محمود خان اچکزئی کا نوٹی فکیشن جاری کرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر کامران مرتضی نواز شریف
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔