Daily Mumtaz:
2026-07-24@13:43:57 GMT

شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن: آئی ایم ایف کی ڈیڈ لائن قریب

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن: آئی ایم ایف کی ڈیڈ لائن قریب

اسلام آباد(ویب ڈیسک) شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے معاملے پر صوبوں کی جانب سے عدم تعاون کے باعث آئی ایم ایف کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آگئی۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار کی درخواست کے باوجود صوبوں نے تاحال مطلوبہ قانون سازی مکمل نہیں کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیے مارچ 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے جبکہ طے شدہ اہداف پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت کو جون 2026 تک شوگر سیکٹر سے مکمل طور پر نکلنا ہو گا، تاہم اکتوبر 2025 سے تیار کی گئی ڈی ریگولیشن تجاویز پر اب تک خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔

وفاقی حکومت نے صوبوں کو خطوط لکھ کر صوبائی اسمبلیوں سے قانون سازی کی درخواست کی ہے تاہم خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ نے متعلقہ محکموں کو سمری جاری کرنے پر وفاق کو سی سی رکھا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈی ریگولیشن کے بعد کسانوں کو گنا کاشت کرنے یا نہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی اور انہیں ملک بھر کی تمام شوگر ملوں کو گنا فروخت کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہو گا، گنے کی نقصان دہ اقسام سے متعلق نیگیٹو لسٹ حکومت کی جانب سے جاری کی جائے گی۔

ڈی ریگولیشن کے بعد ملک بھر میں نئی شوگر ملز کے قیام پر کوئی سرکاری پابندی نہیں ہو گی جبکہ شوگر کی برآمد پر عائد پابندی بھی ختم کر دی جائے گی، اسی طرح چینی کی درآمد پر ٹیرف اور چینی یا اس کی تیاری کے لیے خام مال کی درآمد پر بھی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈی ریگولیشن کے شوگر سیکٹر نہیں ہو

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ