مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی جانب سے مساجد اور ان سے وابستہ افراد کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کیے جانے کے عمل نے مقامی آبادی، مذہبی حلقوں اور سیاسی قیادت میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی معروف خاتون رہنما آسیہ اندرابی دہشتگردی کیس سے بری، دیگر الزامات میں مجرم قرار

ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق پولیس مساجد کے ائمہ، مؤذنین اور انتظامی کمیٹیوں سے آدھار نمبرز (شناختی کارڈ نمبر)، موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبرز، بینک تفصیلات، سوشل میڈیا سرگرمی اور خاندانی معلومات طلب کر رہی ہے جسے ناقدین مسلمانوں کے مذہبی اداروں کی ڈیجیٹل نگرانی اور پروفائلنگ قرار دے رہے ہیں۔

سری نگر کی ایک مسجد میں 65 سالہ عبدالرشید دوپہر کی نماز کے بعد بھی خاموش بیٹھے کاغذات دیکھ رہے تھے۔ ان کے مطابق دہائیوں پر محیط کرفیو، جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں کے باوجود انہوں نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔

انہوں نے ٹی آر ٹی  ورلڈ کو بتایا کہ میں نے اپنی پوری زندگی یہاں نماز پڑھی ہے مگر بدترین دور میں بھی کسی نے ہم سے یہ معلومات نہیں مانگیں۔

یہ سوالنامے مقامی پولیس نے مساجد کی انتظامیہ کو فراہم کیے ہیں جن میں ابتدا میں مسجد کے مسلک، تعمیر کے سال اور فنڈنگ کے ذرائع جیسے بظاہر معمول کے سوالات شامل ہیں مگر بعد میں ائمہ اور مذہبی کارکنوں کے آدھار نمبرز، فون ڈیٹا اور خاندانوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

آدھار بھارت کا بنیادی قومی شناختی نظام ہے جو بایومیٹرک ڈیٹا سے منسلک اور سرکاری و ڈیجیٹل خدمات کے وسیع نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے۔

سنہ2019  کے بعد نگرانی مگر بغیر مقامی احتساب کے

یہ سروے ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں پولیس اور سیکیورٹی کا مکمل کنٹرول وفاق کی جانب سے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے اور مقامی منتخب نمائندوں کو امن و امان کے معاملات میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔

کشمیر ویلی کی 97 فیصد سے زائد آبادی مسلمان ہے جبکہ پورے یونین ٹیریٹری میں مسلمانوں کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے۔ اس تناظر میں مساجد محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ تعلیم، فلاح اور اجتماعی فیصلوں کے مراکز بھی سمجھی جاتی ہیں، خاص طور پر ان دہائیوں میں جب ریاستی ادارے کمزور رہے۔

مزید پڑھیے: مسلمانوں کا خوف، زیادہ داخلے ہونے پر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا میڈیکل کالج بند کردیا

اسی لیے مذہبی اور سیاسی حلقے اس سروے کو آئینی طور پر حاصل مذہبی آزادی اور نجی زندگی کے حق میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔

مذہبی و سیاسی ردعمل

متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) جس کی قیادت میرواعظ عمر فاروق کرتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو بدترین اور مداخلت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل آئین میں دی گئی رازداری اور مذہبی آزادی کی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس سے ائمہ، مذہبی کارکنوں اور عام شہریوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور یہ عمل صرف مسلم اداروں کو نشانہ بناتا دکھائی دیتا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے کہا کہ یہ اقدام معمول کی سیکیورٹی سرگرمیوں سے کہیں آگے جا کر مذہبی عمل کو باقاعدہ نگرانی میں لانے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق جب خطیب جان لے کہ وہ پروفائل ہو رہا ہے تو خطبہ قانون نہیں، خوف کے تحت بدل جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر ’خاموش اور اُداس‘، مگر یہ خاموشی خطرناک ہے: کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی چشم کشا رپورٹ

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سوال اٹھایا کہ ایک شہری کو کتنی سطح کی نگرانی میں جینا پڑے گا؟

سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوالنامہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اگر مذہبی اداروں کی نگرانی ضروری ہے تو پھر صرف مساجد ہی کیوں؟ مندروں، گوردواروں اور گرجا گھروں کو کیوں شامل نہیں کیا جا رہا؟

پولیس کی خاموشی اور خدشات

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ فی الحال توجہ زیادہ تر مساجد پر ہے اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے بارے میں کوئی واضح ہدایات نہیں دی گئیں۔

اب تک پولیس یا سول انتظامیہ نے اس سروے کی کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی جس کے باعث خدشات اور قیاس آرائیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔

جب نگرانی خطبے تک پہنچ جائے

کشمیر میں نگرانی نئی بات نہیں مگر مقامی افراد کے مطابق اس بار فرق یہ ہے کہ یہ نگرانی ڈیجیٹل، منظم اور مستقل نوعیت اختیار کر چکی ہے۔

ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر کے مطابق یہ موجودہ سیکیورٹی نہیں بلکہ مستقبل کے کنٹرول کی دستاویز لگتی ہے۔

جنوبی کشمیر کے ایک امام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب میں جمعے کے خطبے سے پہلے ہر لفظ سوچتا ہوں۔ دین سچ بولنا سکھاتا ہے مگر جب آپ کا فون اور آدھار ریکارڈ پر ہو تو خاموشی محفوظ لگتی ہے۔

بارہ مولہ کے ایک مسجد کمیٹی رکن نے بتایا کہ رضاکار خوفزدہ ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آیا اس کا اثر ان کی نوکری یا پاسپورٹ پر تو نہیں پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر میں ’وندے ماترم‘ تقریبات کے حکومتی حکم پر متحدہ مجلس علما کا اعتراض

سری نگر کے بزرگ نمازی عبدالرشید کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہماری مساجد بند نہیں کیں، مگر ہمارے ذہنوں میں داخل ہو گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب خوف مسجد میں آ جائے تو ہم صرف رازداری نہیں بلکہ اپنی کمیونٹی کی روح بھی کھو دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت کا جبر مقبوضہ کشمیر مقبوضہ کشمیر کی مساجد کی پروفائلنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت کا جبر مقبوضہ کشمیر کی مساجد کی پروفائلنگ انہوں نے بتایا کہ کے مطابق

پڑھیں:

خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر نئی پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد مہنگا ہو گیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے۔

The Houthi rebels of Yemen have resumed their attacks on Red Sea shipping, helping push oil prices above $100 a barrel for the first time in two months. Here's what to know https://t.co/z1WTQNtx7z

— Bloomberg (@business) July 24, 2026

یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

جمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

تاہم دوسرے جہاز کی صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

بحری تجزیاتی ادارے ونڈورڈ کی سینیئر میری ٹائم انٹیلیجنس تجزیہ کار مشیل بوکمین کے مطابق حوثیوں کی ناکہ بندی کی نوعیت ابھی پوری طرح واضح نہیں، اس لیے ماہرین خاص طور پر اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا چینی ملکیت کے آئل ٹینکر باب المندب سے بحفاظت گزر سکتے ہیں یا نہیں۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی کو سعودی خام تیل لے جانے والے 2 ایسے جہاز باب المندب سے گزرے جن کا عملہ اور منزل چین تھی اور انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں تیل کے بجائے جہازوں کی وابستگی کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق حوثیوں نے ماضی میں بھی چین کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا تھا، جبکہ 2023 سے 2025 کے دوران انہوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور امریکا سے وابستہ تجارتی جہازوں کو متعدد بار نشانہ بنایا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی حکمت عملی غیر متوقع ہوتی ہے، تاہم وہ بخوبی جانتے ہیں کہ محدود کارروائیاں بھی عالمی تیل کی منڈی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، تیل کی عالمی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی سے وابستہ ماہر ریچل زیمبا کا کہنا ہے کہ باب المندب کا موجودہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد عالمی خام تیل کے ذخائر مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔

ان کے مطابق متعدد اہم بحری گزرگاہوں پر بیک وقت کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

ڈیزل کی قیمتوں پر بھی اثرات

ماہرین کے مطابق خام تیل کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمتیں بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 5.34 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی۔

گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک سے 2 ہفتوں کے دوران امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 سے 20 سینٹ فی گیلن اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ زیادہ ہے کیونکہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روس کی متعدد آئل ریفائنریاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں روس نے ڈیزل کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔

چین کا کردار بھی اہم

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں چین کا کردار بھی اہم ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں چین نے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کی، جس سے عالمی طلب پر دباؤ کم ہوا اور قیمتوں میں اضافے کی رفتار محدود رہی۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین دوبارہ بڑے پیمانے پر خام تیل درآمد کرنا شروع کرتا ہے یا اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے بجائے بیرونی خریداری بڑھاتا ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، روسی ریفائنریوں کی مشکلات اور امریکا میں آنے والے سمندری طوفانوں کا موسم، یہ تمام عوامل آئندہ ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز امریکا باب المندب بحری گزرگاہوں پیٹرول چین حوثی خام تیل ڈالر فی گیلن ڈرون ڈیزل روس مشرق وسطیٰ یمن یوکرین

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا