مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی نگرانی میں ڈیجیٹل پروفائلنگ پر مقامی آبادی میں شدید تشویش
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی جانب سے مساجد اور ان سے وابستہ افراد کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کیے جانے کے عمل نے مقامی آبادی، مذہبی حلقوں اور سیاسی قیادت میں شدید تشویش پیدا کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی معروف خاتون رہنما آسیہ اندرابی دہشتگردی کیس سے بری، دیگر الزامات میں مجرم قرار
ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق پولیس مساجد کے ائمہ، مؤذنین اور انتظامی کمیٹیوں سے آدھار نمبرز (شناختی کارڈ نمبر)، موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبرز، بینک تفصیلات، سوشل میڈیا سرگرمی اور خاندانی معلومات طلب کر رہی ہے جسے ناقدین مسلمانوں کے مذہبی اداروں کی ڈیجیٹل نگرانی اور پروفائلنگ قرار دے رہے ہیں۔
سری نگر کی ایک مسجد میں 65 سالہ عبدالرشید دوپہر کی نماز کے بعد بھی خاموش بیٹھے کاغذات دیکھ رہے تھے۔ ان کے مطابق دہائیوں پر محیط کرفیو، جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں کے باوجود انہوں نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔
انہوں نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ میں نے اپنی پوری زندگی یہاں نماز پڑھی ہے مگر بدترین دور میں بھی کسی نے ہم سے یہ معلومات نہیں مانگیں۔
یہ سوالنامے مقامی پولیس نے مساجد کی انتظامیہ کو فراہم کیے ہیں جن میں ابتدا میں مسجد کے مسلک، تعمیر کے سال اور فنڈنگ کے ذرائع جیسے بظاہر معمول کے سوالات شامل ہیں مگر بعد میں ائمہ اور مذہبی کارکنوں کے آدھار نمبرز، فون ڈیٹا اور خاندانوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔
آدھار بھارت کا بنیادی قومی شناختی نظام ہے جو بایومیٹرک ڈیٹا سے منسلک اور سرکاری و ڈیجیٹل خدمات کے وسیع نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے۔
سنہ2019 کے بعد نگرانی مگر بغیر مقامی احتساب کےیہ سروے ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں پولیس اور سیکیورٹی کا مکمل کنٹرول وفاق کی جانب سے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے اور مقامی منتخب نمائندوں کو امن و امان کے معاملات میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔
کشمیر ویلی کی 97 فیصد سے زائد آبادی مسلمان ہے جبکہ پورے یونین ٹیریٹری میں مسلمانوں کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے۔ اس تناظر میں مساجد محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ تعلیم، فلاح اور اجتماعی فیصلوں کے مراکز بھی سمجھی جاتی ہیں، خاص طور پر ان دہائیوں میں جب ریاستی ادارے کمزور رہے۔
مزید پڑھیے: مسلمانوں کا خوف، زیادہ داخلے ہونے پر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا میڈیکل کالج بند کردیا
اسی لیے مذہبی اور سیاسی حلقے اس سروے کو آئینی طور پر حاصل مذہبی آزادی اور نجی زندگی کے حق میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔
مذہبی و سیاسی ردعملمتحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) جس کی قیادت میرواعظ عمر فاروق کرتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو بدترین اور مداخلت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل آئین میں دی گئی رازداری اور مذہبی آزادی کی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس سے ائمہ، مذہبی کارکنوں اور عام شہریوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور یہ عمل صرف مسلم اداروں کو نشانہ بناتا دکھائی دیتا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے کہا کہ یہ اقدام معمول کی سیکیورٹی سرگرمیوں سے کہیں آگے جا کر مذہبی عمل کو باقاعدہ نگرانی میں لانے کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق جب خطیب جان لے کہ وہ پروفائل ہو رہا ہے تو خطبہ قانون نہیں، خوف کے تحت بدل جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر ’خاموش اور اُداس‘، مگر یہ خاموشی خطرناک ہے: کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی چشم کشا رپورٹ
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سوال اٹھایا کہ ایک شہری کو کتنی سطح کی نگرانی میں جینا پڑے گا؟
سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوالنامہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اگر مذہبی اداروں کی نگرانی ضروری ہے تو پھر صرف مساجد ہی کیوں؟ مندروں، گوردواروں اور گرجا گھروں کو کیوں شامل نہیں کیا جا رہا؟
پولیس کی خاموشی اور خدشاتایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ فی الحال توجہ زیادہ تر مساجد پر ہے اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے بارے میں کوئی واضح ہدایات نہیں دی گئیں۔
اب تک پولیس یا سول انتظامیہ نے اس سروے کی کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی جس کے باعث خدشات اور قیاس آرائیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔
جب نگرانی خطبے تک پہنچ جائےکشمیر میں نگرانی نئی بات نہیں مگر مقامی افراد کے مطابق اس بار فرق یہ ہے کہ یہ نگرانی ڈیجیٹل، منظم اور مستقل نوعیت اختیار کر چکی ہے۔
ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر کے مطابق یہ موجودہ سیکیورٹی نہیں بلکہ مستقبل کے کنٹرول کی دستاویز لگتی ہے۔
جنوبی کشمیر کے ایک امام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب میں جمعے کے خطبے سے پہلے ہر لفظ سوچتا ہوں۔ دین سچ بولنا سکھاتا ہے مگر جب آپ کا فون اور آدھار ریکارڈ پر ہو تو خاموشی محفوظ لگتی ہے۔
بارہ مولہ کے ایک مسجد کمیٹی رکن نے بتایا کہ رضاکار خوفزدہ ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آیا اس کا اثر ان کی نوکری یا پاسپورٹ پر تو نہیں پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر میں ’وندے ماترم‘ تقریبات کے حکومتی حکم پر متحدہ مجلس علما کا اعتراض
سری نگر کے بزرگ نمازی عبدالرشید کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہماری مساجد بند نہیں کیں، مگر ہمارے ذہنوں میں داخل ہو گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب خوف مسجد میں آ جائے تو ہم صرف رازداری نہیں بلکہ اپنی کمیونٹی کی روح بھی کھو دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت کا جبر مقبوضہ کشمیر مقبوضہ کشمیر کی مساجد کی پروفائلنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت کا جبر مقبوضہ کشمیر کی مساجد کی پروفائلنگ انہوں نے بتایا کہ کے مطابق
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔