ایران میں بازیاب ہونیوالی پاکستانی خاتون کا معاملہ الجھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
ایران میں بازیاب ہونے والی پاکستانی خاتون نے تنہا وطن واپس آنے سے انکار کر دیا اور مبینہ طور پر سفری دستاویز کے بغیر ایران کا سفر کرنے کے سبب خاتون کا معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔
بازیاب ہونے والی پاکستانی خاتون کا تحریری اور ویڈیو پیغام ’جیو نیوز‘ نے حاصل کرلیا جس میں 4 ماہ کی حاملہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کی حالت ایسی نہیں کہ وہ تنہا سفر کر سکے۔
خاتون نے کہا کہ اس کی چھوٹی بیٹی بھی ساتھ ہے، اس لیے وہ شوہر کے ساتھ ہی جانا پسند کرے گی۔
اس حوالے سے ایرانی سفارتکار نے ’جیو نیوز‘ کو بتایا کہ خاتون کو ہرمزگان صوبے کے دارلحکومت بندرعباس میں واقع پولیس کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایرانی سفارتکار کے مطابق خاتون تک پاکستانی سفارتخانے کو مکمل رسائی دی گئی ہے، پاکستانی حکام جب چاہیں خاتون کو وطن بھجوا سکتے ہیں لیکن کئی روز گزرنے کے باوجود تاحال پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔
ایرانی سفارتکار سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ خاتون پر مبینہ طور پر مظالم ڈھانے والے اس کے شوہر کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ تو جواب میں اُنہوں نے کہا کہ خاتون نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے شوہر پر الزامات عائد کیے ہیں تو دوسرے ویڈیو پیغام میں یہ کہا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہی جانا چاہتی ہے۔
اُنہوں نے مزید نے بتایا کہ باضابطہ کارروائی محض ویڈیو پیغام کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی ہے، خاتون کی جانب سے شوہر کے خلاف کارروائی کی باضابطہ درخواست جمع نہیں کروائی گئی۔
واضح رہے خاتون نے اپنے ویڈیو پیغام میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے اپیل کی تھی کہ اسے شوہر کے مظالم سے 2 دن کے اندر بازیاب نہ کروایا گیا تو پھر وہ خودکشی کر لے گی۔
خاتون کی اپیل پر کامران ٹیسوری نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور ایران میں وزارت خارجہ کے سینئر افسر سے اس معاملے پر بات کی اور پھر ایران میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے خاتون کو بچانے کے لیے ایک ٹیم بھیجی۔
یاد رہے کہ گورنر سندھ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ خاتون کو وطن لانے کے سفری اخراجات اپنی جیب سے ادا کریں گے۔
حیدرآباد کی رہائشی خاتون کے بھائی نے ’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بہن کے پاس موبائل فون نہیں اور نہ ہی وہ کیمپ میں کسی اہلکار سے رابطہ کر سکتے ہیں اور ان کی مالی حیثیت بھی ایسی نہیں کہ وہ خود ایران جا سکیں۔ اس لیے سفارتخانہ ان کی بہن کو واپس لانے میں مدد دے۔
اس حوالے سے ایران میں موجود پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے ’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ناصرف خاتون کو واپس لانے کے لیے ٹیم بھیجی تھی بلکہ وطن واپسی تک اس کی رہائش کے لیے ہوٹل کے انتظامات بھی کر لیے تھے مگر خاتون نے تنہا وطن واپسی سے انکار کر دیا لیکن اب خاتون کا شوہر کے پاس جانا بھی فی الحال ممکن نہیں۔
حکام کے مطابق پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر ایران میں داخلے کی اطلاعات سامنے آنے پر خاتون کا معاملہ مخصوص کمیٹی دیکھے گی اور فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا۔
ایرانی سفارتکار کے مطابق کمیٹی کا فیصلہ سامنے آنے تک یا تو خاتون بندر عباس پولیس کیمپ میں رہے گی یا پھر پاکستانی حکام اسے جب چاہیں وطن واپس بھجوا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایرانی سفارتکار ویڈیو پیغام ایران میں خاتون کو جیو نیوز کے مطابق خاتون نے وطن واپس خاتون کا شوہر کے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔