وفاقی حکومت نالائق ہے تو اس کا بوجھ سندھ حکومت نہیں اٹھائے گی، شرمیلا فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نالائق ہے تو اس کا بوجھ سندھ حکومت نہیں اٹھائے گی۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس جمع نہیں کر پاتا تو کیا یہ سندھ کا قصور ہے۔ پیسا بچانا اور خسارہ کم کرنا چاہتے ہیں تو ڈسکوز کو پرائیویٹائز کریں۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم سےصوبوں کو منتقل ہونے والے محکموں پر یہ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، یہ محکمے صوبوں کو منتقل کر کے 300 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا پیٹ کاٹ کر آپ اپنے خسارے اور نااہلی کو بھرتے جائیں گے تو یہ کافی نہیں، 18ویں ترمیم کے بعد صوبے بڑے بااختیار ہیں، وہ اپنے لوگوں کو خدمات دے رہے ہیں، آپ یہ نہیں کرسکتے کہ میرا خسارا ہو رہا ہے تو ادھر سے پیسا نکالو، اس کا پیٹ کاٹو۔
اسلام آباد پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول.
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی ضرور کریں لیکن آپ وسائل کم نہیں کرسکتے، آپ کسی صوبے کو خیرات نہیں دے رہے، یہ صوبوں کا حق ہے، ہم پیسا جمع کرتے ہیں، فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں ڈالتے ہیں، وہاں سے وہ تقسیم ہوتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ کراچی میں ایک بہت فعال میئر تھے، اس وقت بھی بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہوتا تھا، کراچی میں چار چار دن تک سڑکوں پر پانی جمع رہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر کی رونقیں بحال ہوئی ہیں، آج وہ حالات نہیں ہیں، سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں تو بن بھی رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرمیلا فاروقی نے کہا کہ
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔