بھارتی ہندوتوا کا اصل چہرہ !
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بھارت میں کئی بنیاد پرست ہندو جماعتیں بروئے کار ہیں۔ مثال کے طور پر بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دَل، وِشوا ہندو پریشد وغیرہ۔ یہ تنظیمیں بھارتی ہندو آریہ سماج سے پھوٹی ہیں۔ یہ ’’سنگھ پریوار‘‘ کی شاخیں اور اولادیں ہیں۔ یہ سب مل کر ہی’’ ہندوتوا آئیڈئیلوجی‘‘کہلاتی ہیں ۔ آر ایس ایس ( راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ) کو اِن سب کی ماں یا چھتری کہا جا سکتا ہے۔
آج بھارت کی مقتدر پارٹی، بی جے پی، دراصل آر ایس ایس ہی کی اولاد ہے ۔ آر ایس ایس ہی کی مرکزی اور محوری طاقت سے بھارتی بنیاد پرست ہندو جماعتوں نے بھارت میں واقع صدیوں پرانی ’’بابری مسجد‘‘ شہید کی تھی ۔ آر ایس ایس اتنی طاقتور ہے کہ اگر وہ چاہے تو آج ہی بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، کو پلک جھپکتے میں اقتدار سے محروم اورفارغ کر سکتی ہے ۔
آر ایس ایس کے مرکزی قائد ، موہن بھاگوت ، ہیں ۔ اُن کی عمر75برس ہے ۔ وہ پچھلے 16برس سے ’’آر ایس ایس‘‘ کے مرکزی اور مطلق قائد چلے آ رہے ہیں۔ بھارت بھر میں اُن کی مذہبی سیاست کا ڈنکا بجتا ہے ۔ بھارت کے بڑے بڑے سیاستدان،ہندو پرچارک اور ارب پتی صنعت کار اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر اُن کے پاؤں چھونا اور اُن کی خوشنودی حاصل کرنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں ۔
چند دن پہلے موہن بھاگوت نے بھارت میں آر ایس ایس کے زیر اہتمام (کہ آر ایس ایس کو معرضِ عمل میں آئے 100سال ہو گئے ہیں) ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا ۔ اِس اجتماع میں بھارت و بیرونِ بھارت کی جملہ بنیاد پرست ہندو جماعتوں نے شرکت کی ۔ موہن بھاگوت کے خطاب کے الفاظ سے ہم ہندوتوا کا اصل چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں اور بھارتی ہندو جماعتوں کی اسلام و مسلم دشمنی بھی ۔ اُنھوں نے اپنے خطاب میں خصوصی طور پر یہ کہنا اور بتانا ضروری خیال کیا کہ بھارت ایک ہندو ملک ہے، سیکولر نہیں۔ گویا اُنھوں نے بھارتی سیکولرزم کی بھی نفی کردی اور بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی بھی ۔
موہن بھاگوت نے بھارتی شہر ، ناگپور، میں اپنے تاریخی خطاب میں کہا :’’ بھارت ایک ہندو ملک ہے اور رہے گا۔ اور اس حقیقت کے لیے آئینی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں۔جب تک ملک میں ہندو ثقافت کی قدر کی جاتی رہے گی، بھارت ہندو ملک رہے گا۔ بھارت کو’’ہندو قوم‘‘کہنے کے لیے کسی آئینی منظوری کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہی سچائی ہے۔ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔
ہمیں نہیں معلوم یہ کب سے ہو رہا ہے۔ تو کیا اس کے لیے بھی ہمیں آئینی منظوری کی ضرورت ہے؟ ہندوستان بس ایک ہندو قوم ہے۔ جو کوئی بھی بھارت کو اپنی مادرِ وطن سمجھتا ہے، وہ بھارتی ہندوانہ ثقافت کی قدر کرتا ہے۔ جب تک ہندوستان کی سرزمین پر ایک بھی ایسا شخص زندہ ہے جو اپنے آباؤ اجداد کی عظمت پر یقین اور اسے عزیز رکھتا ہے، بھارت ایک ہندو قوم کا ملک ہے۔ یہی سنگھ پریوار کا نظریہ ہے۔اگر کبھی پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر کے کوئی الگ فیصلہ کرے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں آئینی الفاظ کی پرواہ نہیں، کیونکہ ہم ہندو ہیں اور ہمارا ملک ایک ہندو ملک ہے۔ یہی سچ ہے۔
پیدائش کی بنیاد پر قائم ذات پات کا نظا م ہندوتوا کی پہچان نہیں ہے۔‘‘خطاب کے بعد موہن بھاگوت نے بھارتی صحافیوں سے بات چیت بھی کی۔ایک سیکولر مزاج بھارتی صحافی نے جب اُن سے یہ سوال پوچھا:’’ آپ کہتے ہیں کہ پیدائش کی بنیاد پر قائم ذات پات کا نظام ہندوتوا کی پہچان نہیں تو کیا آپ اپنے گھر کی رسوئی( باورچی خانہ) میں کسی نچلی ذات کے ہندو کا داخلہ پسند کریں گے؟ تواِس کا جواب دیتے ہُوئے اُنھوں نے صاف الفاظ میں کہا:’’ بالکل نہیں۔‘‘
موہن بھاگوت نے اپنے خطاب کی تردید کرتے ہُوئے کوئی مزائقہ محسوس نہیں کیا۔ ایک لحاظ سے اچھا ہی کیا۔ کوئی منافقت نہیں کی۔ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں مزید کہا:’’آر ایس ایس کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت اپنی ثقافتی جڑوں اور اکثریتی آبادی کے ہندو مت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ایک’’ہندو قوم‘‘ہے۔آئین کے دیباچے میں لفظ’’سیکولر‘‘اصل میںشامل نہیں تھا بلکہ اسے ’’سوشلسٹ‘‘کے ساتھ 1976ء میں اُس وقت شامل کیا گیا جب اُس وقت کی وزیر اعظم، اندرا گاندھی، نے ایمرجنسی نافذ کی تھی، اور یہ ترمیم آئینی (42ویں ترمیمی) ایکٹ کے تحت کی گئی۔مَیں تمام بھارتی ہندو پسند شہریوں سے کہوں گا کہ وہ آر ایس ایس کے دفاتر کا دَورہ کریں تاکہ تنظیم کے کام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں، اور اس تاثر کو ختم کیا جا سکے جسے بعضوں نے آر ایس ایس کومسلمان مخالف قرار دیا۔ لوگوں نے اب یہ تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ آر ایس ایس ہندوؤں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے اور اس کے ارکان پختہ قوم پرست ہیں، لیکن یہ تنظیم مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ جن لوگوں نے ہمیں دیکھا ہے، دیکھنے کے بعد اُن لوگوں نے کہا ہے کہ ہم پختہ قوم پرست ہیں، ہم ہندوؤں کو منظم کرتے ہیں اور ان کے تحفظ کی وکالت کرتے ہیں۔ یہی اعتراف ہمیں بھارت اور دُنیا بھر کے ہندوؤں میں مقبول بنا رہا ہے۔‘‘
جب موہن بھاگوت اپنے اہم ترین خطاب میں بھارتی سیکولرازم کی تردید کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھارت کو ایک بنیاد پرست ہندو ریاست تسلیم کروانے پر بضد ہیں ۔ اُن کے مذکورہ خطاب کے بین السطور سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے بھارتی مسلمانوں سمیت اقوامِ عالم کے سامنے خود کو ’’ماڈریٹ‘‘ پیش کیا ہے ، مگر اُن کے عملی اقدامات اِس کی نفی کرتے ہیں۔ جب موہن بھاگوت لاکھوں بنیاد پرست اور متعصب بھارتی ہندوؤں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے، اُنہی ایام میں بھارتی صوبہ بہار کے وزیر اعلیٰ، نتیش کمار، مسلم دشمنی کا یوں ثبوت دے رہے تھے کہ پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب میں ایک بھارتی مسلمان ڈاکٹر کا زبردستی حجاب نوچ رہے تھے ۔ اور یہ نتیش کمار ’’صاحب‘‘ آر ایس ایس اور بی جے پی کے مشترکہ و متفقہ وزیر اعلیٰ ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موہن بھاگوت نے اپنے وزیر اعلیٰ کی اِس حرکت کی مذمت کی نہ اپنے تاریخی خطاب میں اِس کا ذکر کیا۔
موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ ’’ بھارت اور آر ایس ایس ذات پات پر یقین نہیں رکھتے ہیں‘‘ اور یہ کہ ’’آر ایس ایس مسلمان مخالف نہیں ہے۔‘‘عملی طور پر دونوں دعوے غلط ہیں ۔ اگر بھارتی پنجاب کے ممتاز ادیب( بلبیر مادھوپوری) کی معرکہ آرا سوانح حیات ’’چھانگیا رُکھ‘‘ پڑھیں تو انسان اشک بار ہو جاتا ہے ۔
یہ سوانح عمری بھارت میں ذات پات کی وحشیانہ تقسیم بارے ذاتی تجربات و مشاہدات پر مبنی ہے ۔ اِس کے علاوہ بھارت ہی کے ممتاز ادیب (اوم پرکاش والمیکی) کی سوانح حیات ’’ جُوٹھن‘‘ بھی اِسی ذات پات کی مکروہ انسانی تقسیم اور بھارت میں نچلی ذات کے ہندوؤں (دلت) بارے ذاتی تجربات بارے شاہکار کتاب ہے ۔ یہ کتابیں پڑھ کر انسان پریشانی سے سوچتا ہے :کیا بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے انسانوں کی اس قدر توہین ہوتی ہے؟ جس شخص کو بھارت میں مروّج ذات پات پر یقین نہیں ہے، وہ صرف یہ دونوں کتابیں پڑھ لے۔چانن ہو جائے گا اور ہندو بنیاد پرست موہن بھاگوت کی منافقت کی قلعی بھی اُتر جائے گی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنیاد پرست ہندو موہن بھاگوت نے بھارتی ہندو ا ر ایس ایس نے بھارتی بھارت میں میں بھارت ا نھوں نے ایک ہندو نے بھارت کرتے ہیں ہندو ملک بنیاد پر ذات پات کے ہندو نہیں ہے کے لیے اور اس ملک ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔