Jasarat News:
2026-07-24@03:39:35 GMT

پنشن کوئی رعایت نہیں آئینی حق ہے، عدالت عظمیٰ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے پنشن سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔عدالت عظمیٰ کے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی اور جسٹس شفیع صدیقی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔عدالت عظمیٰ نے محمد عثمان کی پنشنری فوائد سے متعلق دائر درخواست منظور کر لی اور قرار دیا کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پنشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم  قرار دے دیا اور کہا ہے کہ درخواست گزار نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفا دیا تھا اور استعفے کے وقت درخواست گزار 20 سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ محکمے نے 25 سالہ سروس شرط پر پنشن درخواست مسترد کی تھی، قانون میں 20 سال سروس پر پنشن کی شرط لاگو تھی، پنشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتا اور پنشن پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریگولیشن 418 کے تحت پنشن کی مخالفت کی، ریگولیشن 418 کا تعلق صرف سروس گنتی سے ہے، محکمہ اور ٹریبونل کی تشریح قانونی طور پر ناقابل قبول ہے اور محمد عثمان قانون کے مطابق پنشنری فوائد کے حق دار ہیں۔عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ محمد عثمان نے ستمبر 2007 میں استعفا دیا، اس وقت 20 سالہ سروس والی ترمیم شدہ قانون نافذ تھا، سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 کے ذریعے ترمیم کرکے پنشن کے لیے اہلیت سروس 25 سال سے کم کرکے 20 سال کردی گئی تھی۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدالت عظمی

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان