پنشن کوئی رعایت نہیں آئینی حق ہے، عدالت عظمیٰ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260117-08-25
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے پنشن سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔عدالت عظمیٰ کے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی اور جسٹس شفیع صدیقی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔عدالت عظمیٰ نے محمد عثمان کی پنشنری فوائد سے متعلق دائر درخواست منظور کر لی اور قرار دیا کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پنشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کہا ہے کہ درخواست گزار نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفا دیا تھا اور استعفے کے وقت درخواست گزار 20 سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ محکمے نے 25 سالہ سروس شرط پر پنشن درخواست مسترد کی تھی، قانون میں 20 سال سروس پر پنشن کی شرط لاگو تھی، پنشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتا اور پنشن پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریگولیشن 418 کے تحت پنشن کی مخالفت کی، ریگولیشن 418 کا تعلق صرف سروس گنتی سے ہے، محکمہ اور ٹریبونل کی تشریح قانونی طور پر ناقابل قبول ہے اور محمد عثمان قانون کے مطابق پنشنری فوائد کے حق دار ہیں۔عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ محمد عثمان نے ستمبر 2007 میں استعفا دیا، اس وقت 20 سالہ سروس والی ترمیم شدہ قانون نافذ تھا، سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 کے ذریعے ترمیم کرکے پنشن کے لیے اہلیت سروس 25 سال سے کم کرکے 20 سال کردی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت عظمی
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :