Jasarat News:
2026-07-24@07:26:22 GMT

پنشن کوئی رعایت نہیں آئینی حق ہے، عدالت عظمیٰ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260117-08-25

 

 

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے پنشن سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔عدالت عظمیٰ کے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی اور جسٹس شفیع صدیقی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔عدالت عظمیٰ نے محمد عثمان کی پنشنری فوائد سے متعلق دائر درخواست منظور کر لی اور قرار دیا کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پنشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم  قرار دے دیا اور کہا ہے کہ درخواست گزار نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفا دیا تھا اور استعفے کے وقت درخواست گزار 20 سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ محکمے نے 25 سالہ سروس شرط پر پنشن درخواست مسترد کی تھی، قانون میں 20 سال سروس پر پنشن کی شرط لاگو تھی، پنشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتا اور پنشن پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریگولیشن 418 کے تحت پنشن کی مخالفت کی، ریگولیشن 418 کا تعلق صرف سروس گنتی سے ہے، محکمہ اور ٹریبونل کی تشریح قانونی طور پر ناقابل قبول ہے اور محمد عثمان قانون کے مطابق پنشنری فوائد کے حق دار ہیں۔عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ محمد عثمان نے ستمبر 2007 میں استعفا دیا، اس وقت 20 سالہ سروس والی ترمیم شدہ قانون نافذ تھا، سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 کے ذریعے ترمیم کرکے پنشن کے لیے اہلیت سروس 25 سال سے کم کرکے 20 سال کردی گئی تھی۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدالت عظمی

پڑھیں:

سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔

ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ