پنجاب میں موسم کا نیا سسٹم داخل، شدید سردی ، بارش اور برفباری کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )پنجاب میں موسم کا نیا سسٹم داخل ہوگیا، جس کے بعد شدید سردی، بارش اور برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق آج سے مغربی ہواؤں کا سسٹم پنجاب میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث لاہور سمیت صوبے بھر میں شدید سردی اور دھند کی صورتحال بدستور برقرار رہے گی جب کہ 20 سے 23 جنوری کے دوران مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری اور بارش کا امکان ہے۔ اسی دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بھی بارش متوقع ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ممکنہ خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، پولیس، فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ، سی اینڈ ڈبلیو، ٹورازم اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ایمرجنسی کنٹرول رومز میں عملے کو 24 گھنٹے الرٹ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
دیر بالا میں دنبوں کی لڑائی پر پولیس نے انوکھا مقدمہ درج کر لیا
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 14 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خراب موسم کی صورت میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ مری جانے والے سیاح احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق سیاحوں کی سہولیات کے لیے مری میں مختلف مقامات پر فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی لانچ، نوجوان پاکستانی نے امریکا میں رہتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا اردو اے آئی ماڈل بنا ڈالا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔