پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا جعلی اور کلون نمبر پلیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
علی ساہی: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے صوبے بھر میں جعلی اور کلون نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
سیف سٹی کے جدید اے آئی بیسڈ کیمروں کی مدد سے مشکوک اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس والی گاڑیاں فوری شناخت کی جا رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اے آئی سسٹم کے ذریعے جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کو ٹریس کیا جا رہا ہے اور ڈرائیورز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی کے کیمروں میں مشکوک نمبر پلیٹ نظر آتے ہی خودکار الرٹ جاری کیا جاتا ہے، جس کے بعد ورچوئل پٹرولنگ آفیسرز الرٹ وصول کرتے ہی قریبی پولیس فورس کو تفصیلات فراہم کر دیتے ہیں۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
سیف سٹیز اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ جعلی نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف دفعہ 420 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے، جبکہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے مطابق بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نمبر پلیٹ میں تبدیلی یا ٹیمپرنگ سے ای چالان سے بچا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایف آئی آر کا باعث بن سکتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ نمبر پلیٹ میں رد و بدل ایک سنگین جرم ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک نمبر پلیٹس کے استعمال سے گریز کریں تاکہ قانونی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نمبر پلیٹس کے خلاف
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔