طالبان رجیم سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار، دنیا افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے گریزاں
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
آریانہ نیوز اور افغان انٹرنیشنل نے روسی عہدیدار ضمیر کابولوف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ افغانستان کے مسئلہ پر روس کا امریکا سے کوئی رابطہ ہوا اور نہ ہی رواں سال کیلئے کوئی اجلاس طے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دنیا کے متعدد ممالک افغان طالبان کی انتہا پسندانہ سوچ اور عسکریت پسندی کے شدید ناقد بن گئے ہیں۔ آریانہ نیوز اور افغان انٹرنیشنل نے روسی عہدیدار ضمیر کابولوف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ افغانستان کے مسئلہ پر روس کا امریکا سے کوئی رابطہ ہوا اور نہ ہی رواں سال کیلئے کوئی اجلاس طے ہے۔ روس اور امریکا نے افغانستان کے حوالے سے کوئی براہ راست مذاکرات بھی نہیں کئے۔ کئی ممالک سے غیر قانونی افغان شہریوں کی ملک بدری کے بعد امریکا نے بھی مزید افغانیوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ہزار سے زائد افغان باشندوں کی امریکا میں آبادکاری کیلئے قطر میں قائم اس سلیہ کیمپ بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 2021 میں افغانستان سے انخلا کے بعد عارضی طور پرقطر کے اس کیمپ میں رکھا گیا تھا۔ جرائم پیشہ اور شرپسندانہ ذہنیت کے باعث متعدد میزبان ممالک افغانیوں پرویزہ پابندیاں اور ملک بدری پہلے ہی عمل میں لا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کا سخت گیر طرزِ حکمرانی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اسے عالمی سطح پر تنہا کر چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔