کابل پر قابض طالبان حکومت اپنی سخت گیر پالیسیوں اور ہٹ دھرمی کے باعث عالمی سطح پر ایک کے بعد دوسری سفارتی ناکامی سے دوچار ہے۔ متعدد ممالک طالبان کی انتہا پسندانہ سوچ، عسکریت پسندی اور انسانی حقوق سے متعلق رویّے پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف طالبان رجیم بلکہ افغان شہری بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
آریانہ نیوز اور افغان انٹرنیشنل نے روسی عہدیدار ضمیر کابولوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر روس اور امریکہ کے درمیان نہ کوئی رابطہ ہوا اور نہ ہی رواں برس کے لیے کسی اجلاس کا شیڈول طے پایا ہے۔ ضمیر کابولوف کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان افغانستان سے متعلق کوئی براہِ راست مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔
دوسری جانب کئی ممالک کی جانب سے غیر قانونی افغان شہریوں کی ملک بدری کے بعد امریکہ نے بھی مزید افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ہزار سے زائد افغان باشندوں کی امریکہ میں آبادکاری کے لیے قطر میں قائم اس سلیہ کیمپ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ کیمپ 2021 میں افغانستان سے انخلا کے بعد افغان شہریوں کو عارضی طور پر رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق جرائم پیشہ سرگرمیوں اور شرپسندانہ ذہنیت کے خدشات کے باعث متعدد میزبان ممالک پہلے ہی افغان شہریوں پر ویزہ پابندیاں عائد کر چکے ہیں اور ملک بدری کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کا سخت گیر طرزِ حکمرانی، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پر قدغنیں، اور دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی نے اسے عالمی برادری میں مزید تنہا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق طالبان کی دہشت گردوں کی حمایت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے متعلق خدشات پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تقویت پا رہا ہے، جبکہ طالبان حکومت کے لیے سفارتی دروازے مزید بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟