افغان طالبان کی خواتین کے لباس پر دوبارہ سختی، مانتو پہننے والی خواتین کو ہراساں کیا جانے لگا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
طالبان کی مورال پولیس نے ہرات میں خواتین کے لباس پر اپنی سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جس میں ’مانتو‘ پہننے والی خواتین کو پبلک میں چلنے سے روکنا اور ہراساں کرنا شامل ہے۔ متاثرہ خواتین نے بتایا کہ یہ سختی 12 سے 70 سال کی خواتین پر لاگو کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان نے لڑکیوں سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے وہ خواتین کو انسان نہیں سمجھتے، ملالہ یوسفزئی
ہرات میں طالبان مورال پولیس نے شہر کے مصروف علاقوں جیسے پل رنگینہ، سنیما اسکوائر، گولہا اسکوائر، درب عراق اور مستوفیات اسکوائر میں خواتین کی نگرانی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اہلکار خواتین کو بسوں، ٹیکسیوں اور رکشوں سے نیچے اتار دیتے ہیں اگر وہ مکمل برقع یا نماز کے پردے کے بغیر ’مانتو‘ پہنے ہوں۔
طالبانو د مالیې وزارت اړوند په کور د کېنول شویو ښځينه کارکوونکو معاشونه بندل کړلhttps://t.
— Hasht e Subh Daily (@HashteSubhDaily) January 17, 2026
عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار نے ایک ڈرائیور کو اس لیے تھپڑ مارا کیونکہ اس نے ’مانتو‘ پہنی خاتون کو گاڑی میں سوار کیا تھا۔ کچھ خواتین کو گولہا اسکوائر میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔
متاثرہ خواتین نے بتایا کہ وہ مکمل جسم ڈھانپنے والا حجاب پہنتی تھیں، مگر پھر بھی انہیں ہراساں کیا گیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں بس سے اتار کر ایک گلی سے رکشے پر گھر جانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کی خواتین مخالف پالیسی، کرکٹر راشد خان میدان میں آگئے
مردوں نے بھی بتایا کہ ان کی 12 سالہ بیٹیوں کو ڈرایا گیا کہ وہ گھر سے بغیر برقع کے باہر نہ نکلیں۔ ایک شہری نے کہا کہ وہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے حراست میں رہا اور اس دوران کم از کم 15 خواتین کو بھی روکا گیا۔
گذشتہ برس طالبان نے ہرات میں خواتین بشمول طبی کارکنوں، کو برقع نہ پہننے پر گرفتار اور مارا پیٹا تھا۔ حکومت کی خدمات بھی صرف برقع پہنی خواتین کو فراہم کی جاتی ہیں۔ اس دوران، کچھ خواتین اب بھی عربی اسٹائل کا حجاب اور مانتو پہن رہی ہیں۔
امر به معروف طالبان بازرسی خشونتبار پوشش زنان هراتی را از سر گرفت pic.twitter.com/YfbYy6Qeug
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) January 16, 2026
ماہرین اور مقامی ذرائع کے مطابق اس سختی کے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی آزادی محدود ہو رہی ہے بلکہ شہر میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا ہو رہا ہے۔ طالبان کے سخت رویے اور مورال پولیس کی کارروائیاں خواتین کی روزمرہ زندگی اور صحت کی سہولیات تک رسائی پر سنگین اثر ڈال رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان افغانستان برقع حجاب طالبان مانتو ہرات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان افغانستان طالبان مانتو ہرات نے بتایا کہ خواتین کو
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔