City 42:
2026-07-24@06:23:55 GMT

افغانستان: خواتین کے لباس پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

 ویب ڈیسک : طالبان کی مورال پولیس نے ہرات میں خواتین کے لباس پر اپنی سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جس کے تحت ’مانتو‘ پہننے والی خواتین کو پبلک میں چلنے سے روکنا اور ہراساں کرنا شامل ہے۔

متاثرہ خواتین کے مطابق یہ پابندیاں 12 سے 70 سال کی خواتین پر لاگو کی جا رہی ہیں۔ ہرات کے مصروف علاقوں جیسے پل رنگینہ، سنیما اسکوائر، گولہا اسکوائر، درب عراق اور مستوفیات اسکوائر میں خواتین کی نگرانی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔

خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اہلکار خواتین کو بسوں، ٹیکسیوں اور رکشوں سے نیچے اتار دیتے ہیں اگر وہ مکمل برقع یا نماز کے پردے کے بغیر ’مانتو‘ پہن رہی ہوں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار نے ایک ڈرائیور کو اس لیے تھپڑ مارا کیونکہ اس نے ’مانتو‘ پہنی خاتون کو گاڑی میں سوار کیا تھا۔ کچھ خواتین کو گولہا سکوائر میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔

متاثرہ خواتین نے کہا کہ وہ مکمل جسم ڈھانپنے والا حجاب پہنتی تھیں، مگر پھر بھی انہیں ہراساں کیا گیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں بس سے اتار دیا گیا اور انہیں ایک گلی سے رکشے پر گھر جانا پڑا۔ مردوں نے بھی بتایا کہ ان کی 12 سالہ بیٹیوں کو ڈرایا گیا کہ وہ گھر سے بغیر برقع کے باہر نہ نکلیں۔

اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا

ایک شہری نے کہا کہ وہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے حراست میں رہا اور اس دوران کم از کم 15 خواتین کو بھی روکا گیا۔ گذشتہ برس طالبان نے ہرات میں خواتین بشمول طبی کارکنوں کو برقع نہ پہننے پر گرفتار اور مارا پیٹا تھا۔ حکومت کی خدمات بھی صرف برقع پہنی خواتین کو فراہم کی جاتی ہیں۔

اس دوران، کچھ خواتین اب بھی عربی اسٹائل کا حجاب اور مانتو پہن رہی ہیں۔

 ماہرین اور مقامی ذرائع کے مطابق اس سختی کے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی آزادی محدود ہو رہی ہے بلکہ شہر میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا ہو رہا ہے۔ طالبان کے سخت رویے اور مورال پولیس کی کارروائیاں خواتین کی روزمرہ زندگی اور صحت کی سہولیات تک رسائی پر سنگین اثر ڈال رہی ہیں۔

پیکجز مہنگے ہونے پر انٹرنیٹ کمپنیوں کی وضاحت سامنے آ گئی

 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار