City 42:
2026-06-02@22:33:19 GMT

افغانستان: خواتین کے لباس پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

 ویب ڈیسک : طالبان کی مورال پولیس نے ہرات میں خواتین کے لباس پر اپنی سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جس کے تحت ’مانتو‘ پہننے والی خواتین کو پبلک میں چلنے سے روکنا اور ہراساں کرنا شامل ہے۔

متاثرہ خواتین کے مطابق یہ پابندیاں 12 سے 70 سال کی خواتین پر لاگو کی جا رہی ہیں۔ ہرات کے مصروف علاقوں جیسے پل رنگینہ، سنیما اسکوائر، گولہا اسکوائر، درب عراق اور مستوفیات اسکوائر میں خواتین کی نگرانی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔

خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اہلکار خواتین کو بسوں، ٹیکسیوں اور رکشوں سے نیچے اتار دیتے ہیں اگر وہ مکمل برقع یا نماز کے پردے کے بغیر ’مانتو‘ پہن رہی ہوں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار نے ایک ڈرائیور کو اس لیے تھپڑ مارا کیونکہ اس نے ’مانتو‘ پہنی خاتون کو گاڑی میں سوار کیا تھا۔ کچھ خواتین کو گولہا سکوائر میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔

متاثرہ خواتین نے کہا کہ وہ مکمل جسم ڈھانپنے والا حجاب پہنتی تھیں، مگر پھر بھی انہیں ہراساں کیا گیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں بس سے اتار دیا گیا اور انہیں ایک گلی سے رکشے پر گھر جانا پڑا۔ مردوں نے بھی بتایا کہ ان کی 12 سالہ بیٹیوں کو ڈرایا گیا کہ وہ گھر سے بغیر برقع کے باہر نہ نکلیں۔

اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا

ایک شہری نے کہا کہ وہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے حراست میں رہا اور اس دوران کم از کم 15 خواتین کو بھی روکا گیا۔ گذشتہ برس طالبان نے ہرات میں خواتین بشمول طبی کارکنوں کو برقع نہ پہننے پر گرفتار اور مارا پیٹا تھا۔ حکومت کی خدمات بھی صرف برقع پہنی خواتین کو فراہم کی جاتی ہیں۔

اس دوران، کچھ خواتین اب بھی عربی اسٹائل کا حجاب اور مانتو پہن رہی ہیں۔

 ماہرین اور مقامی ذرائع کے مطابق اس سختی کے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی آزادی محدود ہو رہی ہے بلکہ شہر میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا ہو رہا ہے۔ طالبان کے سخت رویے اور مورال پولیس کی کارروائیاں خواتین کی روزمرہ زندگی اور صحت کی سہولیات تک رسائی پر سنگین اثر ڈال رہی ہیں۔

پیکجز مہنگے ہونے پر انٹرنیٹ کمپنیوں کی وضاحت سامنے آ گئی

 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی