data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی پولیس نے 100 سے زائد بچوں سے مبینہ طور پر زیادتی کرنے والے ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی پولیس نے بچوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے کیس میں سنگین کارروائی کرتے ہوئے شہر کے ٹیپو سلطان علاقے سے ایک سیریل ریپسٹ کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ چند سالوں کے دوران 100 سے زائد بچوں کو جنسی طور پر نشانہ بنایا۔

کراچی پولیس کی ایسٹ انویسٹی گیشن ون ٹیم نے متاثرہ بچوں کی نشاندہی کے بعد تفتیشی کارروائی کی، جس کے دوران مرکزی ملزمان عمران اور وقاص خان کو بھی حراست میں لیا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی نے بتایا کہ کیسز کی تحقیقات 2020 سے 2025 کے دوران سامنے آنے والی سات شکایات پر مرکوز تھیں اور تمام کیسز میں ایک ہی ملزم کا ڈی این اے سامنے آیا، جس سے تحقیقات کرنے والی ٹیم بھی چونک گئی۔

عثمان سدوزئی نے مزید کہا کہ متاثرہ تمام بچے 12 سے 13 سال کی عمر کے ہیں، اور ایک کیس میں متعدد افراد نے مل کر زیادتی کی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا تاکہ تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام کیسز میں فوری طور پر ڈی این اے ٹیسٹ کر کے ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے چھ جنوری کو اس تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی، جس نے مؤثر کارروائی کر کے ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس کامیاب کارروائی کو سراہا اور کہا کہ پولیس نے بچوں کے تحفظ کے لیے قابلِ تعریف کام کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ بدقسمتی سے اس طرح کے کیسز معاشرے کے بھیانک پہلو کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم کراچی پولیس نے اس کیس میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی اور اسے شہر کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بچوں سے زیادتی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور کراچی میں ایسے جرائم پیش کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک صرف سات متاثرہ بچے سامنے آئے ہیں، تاہم پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ باقی متاثرین تک پہنچ کر انہیں بھی انصاف فراہم کیا جائے۔

مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت کی کہ ملزم کے خلاف شواہد کی بنیاد پر مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے اور کیس کی پیشرفت کی رپورٹ یومیہ بنیادوں پر وزیراعلیٰ کو فراہم کی جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت سندھ نے بچوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملزمان کو جلد سے جلد سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہر میں بچوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور ایسے عناصر کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ ہر متاثرہ بچے کو محفوظ ماحول اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔

یہ کارروائی کراچی میں بچوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے سلسلے میں پولیس کی ایک نمایاں اور مؤثر پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس نے عوام میں اعتماد کو فروغ دیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے جرائم کے خلاف سخت موقف اختیار کر رہے ہیں

 

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی پولیس پولیس نے انہوں نے بچوں کے کے خلاف کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار