Jasarat News:
2026-06-02@22:11:43 GMT

پی ایس ایل 11 کا آغاز 26 مارچ کو، اوپن آکشن فارمولے پر غور

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے انعقاد سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پی ایس ایل گورننگ کونسل کے اجلاس میں 26 مارچ کو ایونٹ کے آغاز پر اصولی اتفاق کر لیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں لیگ کے مستقبل، کھلاڑیوں کے انتخاب اور ریٹینشن فارمولے سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے فرنچائز مالکان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ پی ایس ایل میں ڈرافٹ سسٹم کے بجائے اوپن آکشن فارمولے کو اپنایا جائے۔ چیئرمین کا مؤقف تھا کہ نیلامی کے اس نظام سے کھلاڑیوں کو مالی طور پر زیادہ فائدہ پہنچے گا اور لیگ میں شفافیت کے ساتھ ساتھ مقابلے کا معیار بھی مزید بہتر ہو سکے گا۔

گورننگ کونسل کے اجلاس میں دونوں نئی شامل ہونے والی ٹیموں کے مالکان بھی شریک ہوئے، جنہوں نے مختلف معاملات پر اپنی آرا پیش کیں۔ اجلاس میں ابتدائی طور پر 23 مارچ کو افتتاح کی تجویز زیر غور آئی تھی، تاہم بعد ازاں تمام اراکین نے 26 مارچ کی تاریخ پر اتفاق کر لیا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد لیگ کے ڈھانچے میں کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپن آکشن فارمولے پر فرنچائزز کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ کچھ ٹیم مالکان اس نظام کے حق میں نظر آئے جب کہ دیگر نے روایتی ڈرافٹ سسٹم کو ہی بہتر قرار دیا۔ اسی طرح کھلاڑیوں کی ریٹینشن کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ موجودہ نظام کے تحت ہر ٹیم کو 8 کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت ہے، تاہم دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد اس نظام پر نظر ثانی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔

پی سی بی کی خواہش ہے کہ ہر ٹیم کو 3 کھلاڑی ریٹین کرنے کی اجازت دی جائے جب کہ نئی فرنچائزز صفر ریٹینشن کے حق میں ہیں اور پرانی ٹیمیں 5 کھلاڑی برقرار رکھنے کی خواہاں ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان معاملات پر مزید مشاورت جاری رکھی جائے گی۔ گزشتہ اجلاس میں 6 فرنچائزز کے نمائندے آن لائن شریک ہوئے جبکہ 2 فرنچائزز کے نمائندے بالمشافہ اجلاس میں موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اجلاس میں

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے