ماتلی، حیسکو کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ، نظامِ زندگی مفلوج
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (جسارت نیوز)ماتلی شہر اور گرد و نواح کے دیہاتوں میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی جانب سے موسمِ سرما کے دوران بھی روزانہ 16 سے 18 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بجلی کی مسلسل بندش اور حیسکو حکام کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے جہاں گھریلو صارفین اذیت کا شکار ہیں، وہی صنعتی اور کاروباری شعبہ بھی مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔ شہر کی آٹا چکیاں بند ہونے سے مارکیٹ میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں غریب عوام کے لیے روٹی کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے جبکہ ویلڈنگ شاپس، آئل ملز، درزیوں اور دیگر دستکاروں کا کام بند ہونے سے ہزاروں دہاڑی دار مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔بجلی کے اس بدترین بحران نے شہر کے بینکاری اور تعلیمی نظام کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، بینکوں میں آن لائن سسٹم معطل رہنے سے صارفین گھنٹوں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں جبکہ فوٹو اسٹیٹ، کمپیوٹر سینٹرز اور آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ نوجوانوں کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بجلی کی عدم فراہمی سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور نظامِ تعلیم بری طرح متاثر ہے۔ لوڈشیڈنگ کا سب سے سنگین پہلو واٹر سپلائی اسکیموں کی معطلی ہے، حیسکو کی جانب سے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کو بجلی نہ دینے کے باعث شہر میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے جس سے گھروں میں خواتین کو روزمرہ کے کام کاج اور صفائی ستھرائی میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور شہری پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حیسکو کی اس ناقص کارکردگی اور غیر پیشہ ورانہ رویے نے شہریوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ قومی گرڈ سے ناتا توڑ کر سولر سسٹم کی طرف منتقل ہو جائیں، اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں حیسکو کو بجلی خریدنے والا کوئی نہیں ملے گا جس سے قومی خزانے کو مزید نقصان پہنچے گا۔ شہریوں نے نجی پاور پلانٹس (IPPs) کے ساتھ کیے گئے مہنگے معاہدوں اور عوام پر ڈالے گئے اضافی بوجھ کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی وزیرِ توانائی اور چیف ایگزیکٹو حیسکو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں، لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں فی الفور کمی کی جائے اور واٹر سپلائی کے لیے بجلی کی فراہمی کا ایک مربوط شیڈول جاری کیا جائے، بصورتِ دیگر شدید احتجاج کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حیسکو انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔