Jasarat News:
2026-07-24@05:19:04 GMT

ماتلی، حیسکو کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ، نظامِ زندگی مفلوج

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

ماتلی، حیسکو کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ، نظامِ زندگی مفلوج

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماتلی (جسارت نیوز)ماتلی شہر اور گرد و نواح کے دیہاتوں میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی جانب سے موسمِ سرما کے دوران بھی روزانہ 16 سے 18 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بجلی کی مسلسل بندش اور حیسکو حکام کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے جہاں گھریلو صارفین اذیت کا شکار ہیں، وہی صنعتی اور کاروباری شعبہ بھی مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔ شہر کی آٹا چکیاں بند ہونے سے مارکیٹ میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں غریب عوام کے لیے روٹی کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے جبکہ ویلڈنگ شاپس، آئل ملز، درزیوں اور دیگر دستکاروں کا کام بند ہونے سے ہزاروں دہاڑی دار مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔بجلی کے اس بدترین بحران نے شہر کے بینکاری اور تعلیمی نظام کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، بینکوں میں آن لائن سسٹم معطل رہنے سے صارفین گھنٹوں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں جبکہ فوٹو اسٹیٹ، کمپیوٹر سینٹرز اور آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ نوجوانوں کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بجلی کی عدم فراہمی سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور نظامِ تعلیم بری طرح متاثر ہے۔ لوڈشیڈنگ کا سب سے سنگین پہلو واٹر سپلائی اسکیموں کی معطلی ہے، حیسکو کی جانب سے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کو بجلی نہ دینے کے باعث شہر میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے جس سے گھروں میں خواتین کو روزمرہ کے کام کاج اور صفائی ستھرائی میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور شہری پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حیسکو کی اس ناقص کارکردگی اور غیر پیشہ ورانہ رویے نے شہریوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ قومی گرڈ سے ناتا توڑ کر سولر سسٹم کی طرف منتقل ہو جائیں، اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں حیسکو کو بجلی خریدنے والا کوئی نہیں ملے گا جس سے قومی خزانے کو مزید نقصان پہنچے گا۔ شہریوں نے نجی پاور پلانٹس (IPPs) کے ساتھ کیے گئے مہنگے معاہدوں اور عوام پر ڈالے گئے اضافی بوجھ کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی وزیرِ توانائی اور چیف ایگزیکٹو حیسکو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں، لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں فی الفور کمی کی جائے اور واٹر سپلائی کے لیے بجلی کی فراہمی کا ایک مربوط شیڈول جاری کیا جائے، بصورتِ دیگر شدید احتجاج کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حیسکو انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف