100 سے زائد بچوں کو نشانہ بنانے والے ملزمان کے خلاف کارروائی، جرائم کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کراچی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بچوں سے مبینہ طور پر زیادتی کرنے والے مرکزی ملزم عمران اور اسکے ساتھی وقاص خان کو گرفتار کر لیا ۔ ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی کے مطابق متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں کارروائی کی گئی۔ گرفتار ملزمان 2020 سے 2025 تک مختلف اضلاع میں 12 سے 13 سال کے 100سے زائد بچوں کو نشانہ بنا چکے تھے۔ پولیس کے مطابق تمام 7 درج شدہ مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا۔تین کیسز میں بچوں نے ملزم عمران کو شناخت کیا جبکہ ایک کیس میں وقاص خان کو بھی پہچانا گیا۔ ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایت پراسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ، جس نے 11 دن کے اندر مطلوبہ ملزمان کو گرفتار کیا۔ مرکزی ملزم عمران منظورکالونی کا رہائشی پنکچر کا ٹھیا لگاتا تھا ۔موٹرسائیکل پر بچوں کو لالچ دے کر ملیر ندی کے قریب لے جا کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ ملزمان نے دوران تفتیش اپنے جرائم کا اعتراف بھی کر لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں پیش کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں سے زیادتی ناقابل قبول ہے، اور پولیس ہر ممکن قدم اٹھا کر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے مکمل ہوشیاری اختیار کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔