یورپ نے امریکہ کے سامنے فوجیں اتار دیں، گرین لینڈ بحران: مغرب کے دوہرے معیار کا امتحان WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز


تحریر: راحیل حسن


یورپ اس وقت اپنی تاریخ کے خطرناک ترین لمحات میں ایک سے گزر رہا ہے۔ اس بار یورپ کو خطرہ کسی بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اپنے سب سے بڑے اتحادی سے ہے جو گزشتہ پونی صدی سے اسکی حفاظت کا ضامن تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک ایسا بحران ہے جس نے سات دہائیوں سے قائم ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 14 جنوری 2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے Truth Social پر لکھا کہ امریکہ کے ہاتھوں میں گرین لینڈ کے ساتھ نیٹو کہیں زیادہ طاقتور اور موثر بن جائے گا اور اس سے کم کچھ بھی ناقابل قبول ہو گا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واضح کیا ہے کہ انتظامیہ فوجی کارروائی کے آپشن کو مسترد نہیں کرتی۔

دوسری جانب یورپی ممالک نے آرکٹک ریجن کے دفاع کیلئے اپنی فوجیں گرین لینڈ میں اتار دی ہیں۔ جس کے باعث نیٹو اتحاد کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے محاز آرا ہو چکی ہیں۔ ڈنمارک نے فوری طور پر اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے اور آرکٹک کے لیے 4.

2 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی اخراجات کا اعلان کیا ہے۔ فرانس کی جانب سے ماؤنٹین انفنٹری یونٹ کے اہلکاروں کو گرین لینڈ میں تعینات کیا گیا ہے ساتھ ہی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ مزید “زمینی، فضائی اور بحری اثاثے” آنے والے دنوں میں گرین لینڈ بھیجے جائیں گے۔ اسکے علاوہ جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز نے بھی محدود تعداد میں فوجی اہلکار بھیجے ہیں اور ان ممالک کی  مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی جائینگی۔ فوجی موومنٹ کے علاوہ کینیڈا اور فرانس نے گرین لینڈ میں اپنے قونصل خانے کھولنے کا بھی اعلان کیا ہے جس سے وہ گرین لینڈ میں اپنا سفارتی موقف مضبوط کر رہے ہیں۔ ان اقدام سے یورپی ممالک نے پوری دنیا خصوصا امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امریکی منصوبے اور کسی بھی جارحیت کے خلاف متحد ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال نیٹو کی تاریخ میں بے مثال ہے کیونکہ نیٹو اتحاد کی بنیاد آرٹیکل 5 پر ہے جو کہتا ہے کہ ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ لیکن جب خود ایک رکن ملک دوسرے رکن پر حملے کی دھمکی دے تو کیا ہو؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ گرین لینڈ پر حملہ کرتا ہے تو یورپ کا 75 سال کا سلامتی ڈھانچہ تباہ ہو جائے گا جو اس جھٹکے کے بعد بحال نہیں ہو سکتا۔ یوکرین میں روس کی جنگ کے مقاصد کو تقویت ملے گی، عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ میں کمی آئے گی جس سے چین کو فائدہ ہو گا۔

ویسے تو یورپی یونین کے ممالک میں نیٹو اتحاد اور امریکہ کے بغیر اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی سوچ اسی وقت ابھرنی شروع ہو گئی تھی جب اقتدار سمبھالنے کے بعد پہلی بار صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کو نیٹو اتحاد قائم رکھنے کیلئے اس میں اپنا مالیاتی حصہ بڑھانے کا کہا تھا، اس سے یورپی رہنماؤں میں گہری بےچینی پیدا ہوئی جسکے بعد یورپی ممالک نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر سنجیدہ نظرِ ثانی شروع کر دی جس کا عملی اظہار دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس تناظر میں پولینڈ نے سب سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے تقریباً 4 سے 5 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جبکہ ایسٹونیا، لاتویا اور لیتھوانیا 3 فیصد سے زائد دفاعی بجٹ مختص کر رہی ہیں۔ جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ایک خصوصی 100 ارب یورو کا دفاعی فنڈ قائم کیا اور مجموعی دفاعی اخراجات کو 2 فیصد سے اوپر لے گیا، جبکہ فرانس نے بھی اپنا دفاعی بجٹ مستقل بنیادوں پر 2 فیصد سے زائد رکھا ہے۔ ڈنمارک نے 3 فیصد سے زائد دفاعی اخراجات کا اعلان کیا، جبکہ اسپین اور بیلجیم جیسے ممالک نے بھی 2025 تک 2 فیصد ہدف حاصل کرنے کے لیے اربوں یورو کے اضافی منصوبے متعارف کروائے ہیں۔

دفاعی اخراجات میں اضافے کے علاوہ یورپی یونین نے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے European Defence Fund (EDF) اور Permanent Structured Cooperation (PESCO) جیسے دفاعی تعاون کے منصوبوں کے تحت ہتھیاروں کی تیاری، فضائی دفاعی نظام، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور مشترکہ فوجی لاجسٹکس میں اربوں یورو کی سرمایہ کاری شروع کی۔ جرمنی، فرانس اور اٹلی نے فضائی دفاع کے لیے مشترکہ “European Sky Shield Initiative” کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد امریکی فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یورپ اب نیٹو سے ہٹ کر اپنی اسٹریٹجک خودمختاری بڑھانے، اور امریکہ پر حد سے زیادہ سیکیورٹی انحصار کم کرنے کی عملی کوشش کر رہا ہے جو اب بدلتے عالمی طاقت کے توازن میں ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔

گرین لینڈ کا بحران محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے لیے لمحۂ حساب ہے جس کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور یورپ نے مل کر رکھی تھی۔ اگر ٹرانس اٹلانٹک اتحاد طاقت کے استعمال یا دھمکیوں کے سامنے ٹوٹتا ہے تو یہ صرف نیٹو کی ناکامی نہیں ہو گی بلکہ اس پورے تصور کی شکست ہو گی جس کے تحت مغرب خود کو قانون، اتحاد اور باہمی اعتماد کا علمبردار سمجھتا رہا ہے۔ اگر گرین لینڈ پر امریکی دباؤ یا طاقت کو قبول کر لیا گیا تو یہ صرف ایک جزیرے کی قربانی نہیں بلکہ اس اصول کی شکست ہو گی کہ طاقت قانون سے بالاتر نہیں۔ اور اگر یورپ اس لمحے میں متحد، واضح اور ثابت قدم رہا تو ممکن ہے یہی بحران ایک نئے، خودمختار اور زیادہ متوازن عالمی نظام کے جنم کا نقطۂ آغاز ثابت ہو۔

دوسری جانب یہ لمحہ یورپ کے لیے خود احتسابی کا بھی ہے، ماضی میں جب ایران سمیت دیگر ممالک پر بین الاقوامی قانون کے برخلاف فوجی حملوں کی بات آئی تو یورپ نے اکثر اصولوں کے بجائے طاقتور اتحادی کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔ آج وہی منطق کہ طاقت، قانون سے بالاتر ہو سکتی ہے خود یورپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ اگر کل غیر قانونی چڑھائیوں پر خاموشی یا حمایت ایک قابلِ قبول سیاسی رویہ تھا، تو آج اس کا منطقی انجام یہ ہے کہ طاقتور اتحادی کمزور شراکت دار کے مفادات کو نظرانداز کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا، یورپ اگر واقعی ایک بہتر، منصفانہ اور پائیدار عالمی نظام کا خواہاں ہے تو اسے نہ صرف اپنے دفاع میں بلکہ اپنی خارجہ پالیسی میں بھی دوہرے معیار کو ترک کرنا ہو گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچوہدری طارق سبحانی کی یارانِ جدہ گروپ آمد، پرتپاک استقبال ایران کی بدامنی میں صہیونی رژیم کا کردار ایران نازک موڑ پر: اندرونی دباؤ، بیرونی محاذ اور خطے کا مستقبل یورپ کی بدلتی سیاست کے پاکستان پر اثرات پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت زمین کے خدا — خواتین کے وراثتی حقوق اور ریاستی انصاف کا امتحان پاکستان کی معاشی صورتحال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: امریکہ کے گرین لینڈ کے سامنے یورپ نے

پڑھیں:

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران