پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ریکارڈ قائم نہ ہو سکے، ہفتہ مثبت اختتام پر ختم
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھاری لیوریج پوزیشنز کے باعث گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کوئی نیا ریکارڈ قائم نہ ہو سکا۔ سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے سبب مارکیٹ میں ہفتہ بھر اتار چڑھاؤ رہا، تاہم اختتام مثبت رجحان پر ہوا۔
شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات پر دو کاروباری سیشنز کے دوران انڈیکس نے 1 لاکھ 85 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کی، لیکن مجموعی طور پر معاشی اشاریوں میں بہتری اور مثبت بنیادی عوامل کو مارکیٹ نے زیادہ اہمیت نہ دی۔ اس کے باوجود دفاعی مصنوعات کے برآمدی معاہدوں کی خبروں سے سرمایہ کاروں کے جذبات کو سہارا ملا۔
ہفتہ وار کاروبار کے دوران مجموعی طور پر تین سیشنز میں مندی جبکہ دو سیشنز میں تیزی دیکھی گئی۔ انشورنس کمپنیوں، میوچل فنڈز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی خرید و فروخت سرگرم رہی، جبکہ لیکویڈیٹی کی مسلسل آمد نے مارکیٹ کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے دوران 185,209 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا، جبکہ کم ترین سطح 180,590 پوائنٹس رہی۔ افراطِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ کے قابو میں رہنے سے مجموعی سرمایہ کاری ماحول مثبت رہا۔ ایکسپلوریشن، بینکنگ اور سیمنٹ سیکٹر میں ممکنہ نمو کی توقعات نے بھی کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا۔
ریکوڈک مائننگ منصوبے میں سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کی توقعات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوا۔ ہفتہ وار تیزی کے باعث حصص کی مجموعی مالیت میں 2 کھرب 6 ارب 81 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری بڑھ کر 209 کھرب 74 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔
کاروباری ہفتے کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 689.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں کے ایس ای
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔