دسمبر 2025 کے آخر میں پاکستانی تاجر محمد وقار نے اسی سال چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کا اپنا تیسرا سفر کیا۔ اس بار ان کا منصوبہ تھا کہ گوئی ژو سے دو مزید مصنوعات، خشک ادرک اور نیول سنگترے دبئی درآمد کریں جہاں وہ گزشتہ 5 برس سے پھل اور سبزیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

گوئی یانگ جامع بانڈڈ زون کے اندر واقع گوئی ژو وان ہوئی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ کی پیداواری فیکٹری میں ادرک اور لہسن کے ڈبے دبئی روانگی کے لئے لوڈ کئے جا رہے تھے۔ وقار نے جھک کر مصنوعات کا معائنہ کیا جو نقل و حمل کے مشترکہ زمینی اور بحری راستے کے ذریعے تقریباً 20 دن میں دبئی کی بندرگاہ پہنچیں گی۔

زرعی شعبے میں مہارت رکھنے والی کمپنی گوئی ژو وان ہوئی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ کی دعوت پر وقار نے فروری 2025 میں پہلی بار گوئی ژو کا دورہ کیا۔ ایک ماہ سے زائد کے سروے کے بعد وہ مقامی زرعی مصنوعات کے معیار سے قائل ہو گئے اور تعاون کا فیصلہ کیا۔

وقار نے کہا کہ گوئی ژو کی زرعی مصنوعات مشرق وسطیٰ کی منڈی کے لئے انتہائی موزوں ہیں جو ذخیرہ اور ترسیل کے دوران بھی اچھی حالت میں رہتی ہیں اور لاجسٹکس نظام موثرہے۔ اب وہ گوئی ژو کو اپنی درآمدات کے ایک اہم براہ راست مرکز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

نومبر 2025 میں شنگ یی اور پان ژو شہروں کو ملانے والی نئی ہائی سپیڈ ریلوے لائن کے افتتاح کے ساتھ گوئی ژو چین کے جنوب مغربی حصے میں پہلا صوبائی سطح کا خطہ بن گیا ہے جہاں تمام صوبائی دارالحکومتوں تک ہائی سپیڈ ریل کی مکمل رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ اس وقت گوئی ژو کا ریلوے نیٹ ورک 4 ہزار 354 کلومیٹر پر محیط ہے جس میں ایک ہزار 906 کلومیٹر ہائی سپیڈ ریلوے شامل ہے اور 17 ریلوے راہداریاں صوبے کو ہمسایہ علاقوں سے جوڑتی ہیں۔ اب یہ چین کے جدید اور وسیع قومی ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔

اس سے قبل وقار زیادہ تر دبئی میں موجود چینی کمپنیوں سے مصنوعات خرید کر دیگر ممالک کو دوبارہ فروخت کرتے تھے۔ تاہم چین کے مغربی علاقے میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی سہولت کاری میں بہتری سے حوصلہ پا کر انہوں نے سپلائی چین کو اس کے اصل ماخذ تک جانچنے کا فیصلہ کیا۔

گوئی ژو کے ہر دورے میں وہ تقریباً 2ماہ قیام کرتے، معیار کی نگرانی کرتے، پیکجنگ کی تفصیلات طے کرتے اور مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے گاہکوں کو حقیقی وقت کی ویڈیوز اور تصاویر بھیجتے۔ دبئی کو اپنے تجارتی مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے وہ اب گوئی ژو کی پیداوار سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں تقسیم کر رہے ہیں۔

زبان کی رکاوٹ کوئی مسئلہ ثابت نہیں ہوئی۔ وقار اور ان کے مقامی شراکت دار الیکٹرانک مترجمین کی مدد سے با آسانی رابطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوئی ژو کا موسم سازگار ہے اور تعاون کا عمل موثر اور ہموار رہا ہے۔

گوئی ژو وان ہوئی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ کے بزنس ڈائریکٹر وو لونگ ہوا نے بتایا کہ گوئی یانگ جامع بانڈڈ زون میں کمپنی کے قیام کی وجہ سے زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور برآمد کے لئے مربوط خدمات تک رسائی حاصل ہے۔

وو لونگ ہوا نے مزید کہا کہ ہم موبائل آلات کے ذریعے ایک ہی مرحلے میں کسٹمز ڈیکلریشن کے تمام طریقہ کار مکمل کر سکتے ہیں۔ جب مصنوعات بانڈڈ زون میں داخل ہو جاتی ہیں تو انہیں بغیر کسی اضافی جانچ کے براہ راست شین ژین کی بندرگاہ بھیجا جا سکتا ہے جس سے نقصان اور ضیاع میں نمایاں کمی آتی ہے۔

2025 سے اب تک وو کی کمپنی مشرق وسطیٰ کو 10 سے زائد اقسام کی زرعی مصنوعات برآمد کر چکی ہے جن میں ادرک، گاجر، ترش پھل اور لیموں شامل ہیں اور ان کی مجموعی مالیت 2 کروڑ یوآن (تقریباً 28.

6 لاکھ امریکی ڈالر) سے تجاوز کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرڈرز پورے کرنے کے لئے ورکشاپ 24 گھنٹے کام کر رہی ہے اور روزانہ ترسیل کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دبئی میں وقار کے گودام میں گوئی ژو سے آنے والی لہسن اور ادرک کی ہفتہ وار 320 ٹن سے زائد کھیپ عموماً ایک ہفتے کے اندر فروخت ہو جاتی ہے۔

گزشتہ سال اپنے قیام کے دوران وقار نے گوئی ژو کے کیوی پھل کے باغات کا بھی دورہ کیا تھا اور وہ اس سال کی کٹائی کے موسم میں اس پھل کو مشرق وسطیٰ میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وقارنے کہا کہ گوئی ژو کا کیوی وٹامنز سے بھرپور اور ذائقے میں بہترین ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کی منڈی میں ایک نیا پسندیدہ پھل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اشتہار

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل زرعی مصنوعات ہائی سپیڈ نے کہا کہ کے لئے چین کے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ