بلوچستان میں مارشل لاء حکومت قائم ہے، تحریک تحفظ آئین
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے غلام نبی مری نے کہا کہ 8 فروری کے عام انتخابات تاریخ میں ایک سیاہ دھبہ ہے۔ غیر نمائندہ اور عوامی حمایت سے محروم حکومت کو مسلط کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان صوبہ بلوچستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو سزا دی جا رہی ہے۔ صوبے میں جمہوری حکومت نہیں، مارشل لاء نافذ ہے۔ عوام بے روزگار ہو گئے ہیں۔ خواتین کو بھی لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بات بی این پی کے رہنماء غلام نبی مری اور تحریک کے دیگر رہنماؤں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو عام انتخابات میں زر و زور، ظلم و جبر اور ریاستی طاقت کے ذریعے کروڑوں عوام کی جمہوری رائے کو بدلہ گیا۔ جو تاریخ میں ایک سیاہ دھبہ ہے۔ غیر نمائندہ اور عوامی حمایت سے محروم حکومت کو مسلط کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت نے احتجاج کرنے والوں کا خون بہایا اور تھانوں اور جیلوں میں عورتوں کی تذلیل کی گئی۔ ہزاروں افراد پر ایف آئی آر درج کئے گئے اور پاکستان کے متفقہ آئین کی دھجیاں اڑا دی گئی۔
انکا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ اور اظہار رائے پر پابندی عائد ہے۔ اب بلوچستان سے خواتین کو بھی لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں ایک مارشل لاء حکومت قائم ہے، جمہوری نہیں ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کو سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔ امن و امان، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کو جینا دوبھر کر دیا ہے۔ بی این پی کے جلسے میں خودکش حملہ ہوا۔ غلام نبی مری نے بلوچستان حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے صوبے کے مسائل گنوائیں۔ انکا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو سزا دی جا رہی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ جاری ناروا عمل کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ایسے حالات میں ہر شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ 8 فروری کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کرتے ہوئے اپنا سیاسی و تاریخی کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔