بالی ووڈ میں فرقہ وارانہ اثرات ، اے آر رحمان بول اٹھے
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
آسکر یافتہ موسیقار اے آر رحمان نے حالیہ برسوں میں ہندی فلم انڈسٹری میں کام کم ہونے کی وجوہات پر روشنی ڈالی، جن میں طاقت کے بدلاؤ اور ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ رویے شامل ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اپنی فلمی موسیقی اور نئے پروجیکٹس کے تجربات پر بھی بات کی۔
یہ بھی پڑھیں:’خود کشی کے خیال آتے تھے‘ طلاق کے بعد اے آر رحمان پہلی بار منظرِ عام پر
برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں اے آر رحمان نے کہا کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران ہندی فلموں میں ان کے کام میں کمی آئی ہے، جو کہ طاقت کے بدلاؤ اور بعض اوقات ’فرقہ وارانہ‘ عناصر کی وجہ سے ہو سکتی ہے، حالانکہ یہ ان کے سامنے براہِ راست نہیں آیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ کام کی تلاش میں نہیں رہتے بلکہ کام خود ان تک آئے، اور وہ پروجیکٹس کو صرف خلوص نیت کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں۔
اے آر رحمان نے بتایا کہ ہندی فلموں میں ان کی شروعات 1990 کی دہائی میں غیر معمولی تھی اور سبھاش گھئی کی فلم ’تال‘نے انہیں شمالی بھارت میں گھر گھر مقبول بنایا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ اس فلم کے بعد لوگ ان کے کام سے قریب تر آئے اور ان کی موسیقی عام لوگوں کے گھروں تک پہنچی۔
یہ بھی پڑھیں:’اے آر رحمان میرے والد کی طرح ہیں‘ تعلقات کی خبروں پر موہنی ڈے پھٹ پڑیں
اے آر رحمان نے کہا کہ موجودہ طاقت کے مراکز میں اب زیادہ تر غیر تخلیقی لوگ فیصلہ سازی کرتے ہیں، اور اس تبدیلی کا اثر کبھی کبھار غیر واضح انداز میں ان تک پہنچتا ہے، لیکن وہ اسے ذاتی طور پر برا نہیں مانتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ منفی نیت والی فلموں میں کام نہیں کرتے اور ہر پروجیکٹ کے اخلاقی پہلو پر غور کرتے ہیں۔
انہوں نے نے یہ بھی کہا کہ عوام خود صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فلموں کے ذریعے صرف مثبت پیغام دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آر رحمان بالی ووڈ بھارت موسیقار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ر رحمان بالی ووڈ بھارت
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔