وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا ہیلتھ کیئر نظام برباد ہونے کے قریب ہے۔ ہر سال ملک میں 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جن میں سے چار لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی ایک بھی ڈوز نہیں دی جاتی، اور لاکھوں بچوں کو صرف جزوی حفاظتی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
کراچی کے جیکب لائن صدر میں دوسرے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ صرف ایک سرکاری کام نہیں بلکہ اللہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے وفاقی وزارت صحت کی کوشش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کورونا وبا نے ثابت کیا کہ اگر بڑے پیمانے پر لوگ ایک ساتھ بیمار ہوں تو طاقتور ممالک بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں، اور پاکستان میں بغیر کسی وبا کے بھی صحت کا نظام شدید دباؤ میں ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر صرف مریضوں کا علاج نہیں بلکہ شہریوں کو بیماریوں سے بچانے کا نام ہے، اور یہ ذمہ داری صرف وزارت صحت تک محدود نہیں بلکہ یو سی کونسلرز اور مقامی ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت گلگت بلتستان، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، تاکہ ہر شہری کو معیاری طبی سہولت میسر ہو۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر فوری توجہ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے