وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی کے دوسرے ڈیجیٹائز ہیلتھ سینٹر کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر انسان کو مریض بننے سے بچانے کا نام ہے، سرکاری اور نجی اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، ہماری گلیاں اور محلے مریض بنانے کی فیکٹریاں ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ بیماریوں کی وجہ سے خطِ غربت سے نیچے آگئے، حکومت کی ترجیح ہے کہ شہریوں کو مریض بننے سے بچائے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی کے دوسرے ڈیجیٹائز ہیلتھ سینٹر کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ جوائنٹ سیکرٹری صحت صلاح الدین اور بارڈر ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کیئر کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے کیونکہ ہم نے اسپتال بنانے پر توجہ دی لیکن انسانوں کو مریض بننے سے روکنے کے اقدامات نہیں کیے، بنیادی صحت کے مراکز میں مریضوں کا علاج بلامعاوضہ کیا جائے گا، ہم سیاست نہیں کررہے، اللہ کی مخلوق کیلئے سہولت پیدا کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی وبا نہیں لیکن اس کے باوجود ایک ہی وقت میں بہت سارے لوگ بیمار پڑ رہے ہیں، 25 کروڑ آبادی ہے، ہر سال 61 لاکھ بچے پیدا ہورہے ہیں، 4 لاکھ بچوں کو کوئی ٹیکا نہیں لگا، انہیں کوئی بھی بیماری ہوسکتی ہے، لاکھوں بچے ایسے ہیں جنہیں صرف ایک بار ویکسین لگی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جو بیماریاں ختم ہوگئی ہیں وہ ہمارے یہاں اب تک پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر انسان کو مریض بننے سے بچانے کا نام ہے، سرکاری اور نجی اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، ہماری گلیاں اور محلے مریض بنانے کی فیکٹریاں ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ بیماریوں کی وجہ سے خطِ غربت سے نیچے آگئے، حکومت کی ترجیح ہے کہ شہریوں کو مریض بننے سے بچائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں سروائیکل کینسر کی ویکسین آئی تو اس کے خلاف بیبنیاد پراپیگنڈہ کیا گیا، آپ ویکسین لگائیں، بیماریوں سے بچیں تاکہ اسپتال سنجیدہ نوعیت کے مریضوں کو دیکھنے میں اپنی توانائی صرف کرے، معمولی بیماریوں والے افراد بڑے اسپتالوں کا رخ کرلیتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی بنیادی یا پرائمری صحت مرکز نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نان پرافٹ آرگنائزیشن صحت کہانی کی شراکت داری کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ٹیلی میڈیسن متعارف کرایا جاچکا ہے، دور دراز کے علاقوں میں جہاں بنیادی صحت مراکز نہیں وہاں کے رہائشی ٹیلی میڈیسن سے استفادہ کرسکیں گے، ابھی یہاں افتتاح کے وقت ایک ڈاکٹر نے دبئی سے آن لائن بیٹھ کر مریض کا معائنہ کیا ہے، گھر بیٹھی خواتین ڈاکٹرز کو اس نظام کا حصہ بنا رہے ہیں، یہاں آنے والے مریضوں کی خدمت کیلئے جدید مشینیں نصب کی جارہی ہیں۔
مصطفی کمال نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف صاحب صحت کے شعبے میں بہت دلچسپی لیتے ہیں، ان کی دلچسپی اور رہنمائی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو پارہا ہے، اس پراجیکٹ میں حکومت کا ایک پیسہ نہیں لگ رہا، 'صحت کہانی' کی ٹیم یہ کام کررہی ہے۔ انہوں نے احسن اقبال کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ایک دن میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس بلا کر ہماری 5 اسکیمیں منظور کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹائز ہیلتھ کیئر سینٹر کے پہلے مرحلے میں 10 سینٹرز طے پائے ہیں، 4 کراچی جبکہ 6 اسلام آباد میں بنیں گے، اب کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی ہمارے پاس درخواستیں آرہی ہیں، یہاں مزید کئی کام کرنا ہیں، لیبارٹریز بنانی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر صوبے بنانے کے حق میں ہیں، یہ کسی کی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کی مجبوری ہے، اگر لوگوں کو ڈلیور کرنا ہے تو آپ کو انتظامی یونٹس بنانا پڑیں گے، اس کے بعد بھی بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دینا ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو مریض بننے سے مصطفی کمال نے وفاقی وزیر ہیلتھ کیئر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
سٹی 42: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی ۔ خیبرپختونخوا میں امن عامہ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا ۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ آگاہ کیا
وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ۔ دونوں رہنماؤں کا دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
محسن نقوی نے کہا خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے
لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔
محسن نقوی نے کہا وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔