یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت اب شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکتے ہیں، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت گلگت بلتستان، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی جیکب لائن صدر میں دوسرے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے اور ہم اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ ہمیں ایک بار پھر یہ کام کرنے کی توفیق ملی۔
وفاقی وزیر صحت نے انسانیت کی خدمت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایک حدیث کا حوالہ دیا کہ بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک عورت نے دیکھا کہ ایک کتا پیاسا ہے، اس نے اپنا موزہ اتار کر کتے کی پیاس بجھائی، جس پر اللہ نے اسے بہت ثواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ مخلوق سے محبت کرتا ہے اور تکلیف میں مبتلا فرد کی راحت دینے سے بہت ثواب ملتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ کوئی عام سرکاری کام نہیں بلکہ وفاقی وزارت صحت اللہ کی مخلوق کی تکلیف کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہیلتھ کیئر نظام برباد ہونے کے قریب ہے اور کورونا وبا کے بعد ثابت ہوا کہ اگر ایک ساتھ اتنے لوگ بیمار ہوں تو طاقتور ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں جن میں امریکا، برطانیہ اور چین بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بغیر پینڈیمک بھی بہت لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے چار لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی ایک بھی ڈوز نہیں ملی اور لاکھوں بچوں کو صرف سنگل ڈوز دی گئی۔
سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر صرف مریضوں کا علاج نہیں، بلکہ شہریوں کو امراض سے تحفظ فراہم کرنا ہے اور یہ کام صرف وزیر صحت کا نہیں، بلکہ یو سی کونسلر سے لے کر سب کی ذمہ داری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔