انڈر 19 ورلڈ کپ: بھارت کے 238 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلادیش کی بیٹنگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
انڈر 19 ورلڈ کپ کے ساتویں میچ میں بنگلادیش نے بھارت کے مقررہ ہدف کے تعاقب کے لیے بیٹنگ شروع کر دی ہے۔
میچ بُلاوایو میں کھیلا جا رہا ہے، جہاں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 49 ویں اوور میں 238 رنز بنائے اور اپنی تمام وکٹیں گنوا دیں۔ بھارت کی جانب سے ابھیگیان کُنڈو 80 اور ویبھو سوریاونشی 72 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔ دیگر کھلاڑیوں میں کنسک چوہان 28، دیپیش دیویندرن 11، کھِلن پٹیل 8، وِہان ملہوترا 7، کپتان آیوش مہاترے 6، آر ایس امبرش 5، ہرونش پنگالیا 2 اور ویدنت تریویدی صفر رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
بنگلا دیش کی بولنگ میں الفہد نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عزیز الحکیم اور اقبال حسین ایمان نے دو، دو وکٹیں لی اور شیخ پرویز جِبن نے ایک وکٹ حاصل کی۔
اب بنگلادیش بھارت کے 238 رنز کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، اور ٹیم کی بیٹنگ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :