یووراج اور سہواگ کے پاس کروڑوں، میں ان سے کہیں زیادہ غریب ہوں: محمد کیف کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سابق بھارتی کرکٹر محمد کیف نے اپنے پرانے ساتھیوں یووراج سنگھ اور وریندر سہواگ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں اِن کے مقابلے میں کہیں زیادہ امیر ہیں۔
نیٹ فلکس کے شو ’دی گریٹ انڈین کپل شو‘ کی آئندہ قسط سے ایک ٹیزر سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
اس مختصر سی ویڈیو میں محمد کیف نے ہلکے پھلکے انداز میں بتایا کہ ’اگر یووراج اور سہواگ ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں تو ان کی جیبوں سے 5-6 کروڑ روپے گر جائیں، میں ان کے مقابلے میں بہت غریب ہوں۔‘
وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ محمد کیف کے اس بیان پر یووراج سنگھ نے اِن سے سوال کیا کہ وہ اس وقت کون سے برانڈ کے جوتے پہنے ہوئے ہیں جس پر کیف نے بین الاقوامی شہرت یافتہ مہنگے ترین برانڈ کا نام لیا۔
اس پر یووراج نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’یہ خود کو ابھی غریب کہہ رہا ہے؟‘
واضح رہے کہ محمد کیف، یووراج سنگھ اور وریندر سہواگ نے 2000 کی دہائی میں بھارتی ٹیم کے لیے ایک ساتھ کھیلا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمد کیف
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔