گورنر پنجاب نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا: ملک کے خلاف منفی پروپیگینڈا سے گریز کریں
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے خلاف منفی پروپیگینڈا سے بچیں اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔
پیرس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ہمیں اپنی فوج کے لیے دعاگو رہنا چاہیے جو سرحدوں پر جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتیں تو بدلتی رہتی ہیں، مگر پاک فوج ریاست کی سلامتی کی مضبوط ضامن ہے۔
سردار سلیم حیدر خان نے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو شہید نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں میاں نواز شریف نے مکمل کیا اور پاکستان کو ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا میں متعارف کرایا۔ آج پاکستان کی مضبوطی اسی تاریخی فیصلے کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے حالیہ پاک بھارت جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور دلیری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا، بھارت کو شکست دی اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند کیا۔
تقریب کے آغاز پر گورنر پنجاب کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ ان کے اعزاز میں شاندار عشائیہ بھی دیا گیا، جس میں فرانس کی سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔
اس موقع پر فرانس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان بزنس فورم نے بھرپور نمائندگی کی۔ تقریب کی میزبانی پاکستان بزنس فورم فرانس و یورپ نے کی جبکہ چیئرمین راجہ علی اصغر، صدر حاجی اسلم، جنرل سیکرٹری سلمان اسلم اور چیئرمین یورپ سردار ظہور اقبال نے گورنر کو خوش آمدید کہا اور ان کی خدمات کو سراہا۔
تقریب کا اختتام ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ اور ’’پاکستان پائندہ باد‘‘ کے نعروں اور شاندار عشائیے کے ساتھ ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔