ٹک ٹاک نے مختصر ڈراموں کی نئی ایپ متعارف کرادی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ٹک ٹاک نے سوشل میڈیا سے باہر مختصر تفریحی مواد کے میدان میں قدم بڑھاتے ہوئے ایک نئی مختصر ڈراما ایپ پائن ڈراما خاموشی سے ریلیز کر دی ہے۔
پائن ڈراما میں ایک منٹ کی قسطوں پر مشتمل مائیکرو ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، جن میں ہر ویڈیو ایک اسکرپٹڈ کہانی کا حصہ ہوتا ہے اور اسے تیز رفتار اور لگاتار دیکھنے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں نے 2025 میں ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ کیا سرچ کیا؟ تفصیلات جاری
اس وقت یہ ایپ مفت اور بغیر اشتہارات کے دستیاب ہے، تاہم مستقبل میں مونیٹائزیشن متعارف کرائی جا سکتی ہے۔
ابتدائی طور پر اس ریلیز کی خبر بزنس انسائیڈر نے رپورٹ کی تھی۔ صارفین ڈسکور ٹیب کے ذریعے مواد تلاش کر سکتے ہیں، جہاں آل اور ٹرینڈنگ ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، اور اپنی دلچسپی کے مطابق عمودی ترتیب میں قسطیں اسکرول کر کے دیکھی جا سکتی ہیں۔
ڈراموں کی انواع میں رومانس، تھرلرز اور فیملی ڈرامے شامل ہیں۔ مقبول عنوانات میں لوو ایٹ فرسٹ بائٹ اور دی آفیسر فیلڈ فار می شامل ہیں۔
پائن ڈراما میں صارفین کے لیے فیورٹس، واچ ہسٹری اور کمنٹ سیکشن جیسے فیچرز بھی موجود ہیں، جن سے وہ اپنی پسندیدہ سیریز ٹریک کر سکتے ہیں اور دیگر ناظرین کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ٹک ٹاک مونیٹائزیشن کب تک ممکن ہے؟
فل اسکرین ویو میں کیپشن اور سائیڈ بار ہٹا دیے جاتے ہیں تاکہ دیکھنے کا تجربہ زیادہ واضح اور پرکشش ہو۔
پائن ڈراما کے ذریعے ٹک ٹاک براہِ راست ریل شارٹ اور ڈراما باکس جیسے پلیٹ فارمز سے مقابلہ کر رہا ہے، جو کم بجٹ اور کلیف ہینگر طرز کی کہانیوں کے ذریعے کامیاب ہوئے ہیں۔
ویرائٹی کے مطابق مائیکرو ڈراما مارکیٹ کا اندازہ ہے کہ 2030 تک اس کا سالانہ ریونیو 26 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا، جس سے یہ شعبہ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں کے لیے اہم بنتا جا رہا ہے۔
ٹک ٹاک کی نئی ایپ اس وقت آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں پر دستیاب ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we mews ایپ پائن ڈرامہ ٹک ٹاک مائیکرو ڈراما ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایپ پائن ڈرامہ ٹک ٹاک مائیکرو ڈراما ایپ پائن ڈراما کے لیے ٹک ٹاک
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔