بھارتی وزارت خارجہ نے چابہار بندرگاہ منصوبے سے بھارت کی دستبرداری کے دعووں کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ اب یہ سننا کہ بھارت نے امریکی دباؤ کے پہلے اشارے پر چابہار سے غیر رسمی طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، یہ اس حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ان اطلاعات کے بعد کہ بھارت نے مبینہ امریکی دباؤ کی وجہ سے ایران میں چابہار پورٹ پروجیکٹ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے، بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ نے بھارت کو ایک خط جاری کیا ہے جس میں اس منصوبے کو پابندیوں سے 26 اپریل 2026ء تک غیر مشروط استثنیٰ دیا گیا ہے۔ چابہار بندرگاہ کے منصوبے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ 28 اکتوبر 2025ء کو جیسا کہ آپ جانتے ہیں، امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیوں سے غیر مشروط استثنیٰ فراہم کرنے والا ایک خط جاری کیا، جو کہ 26 اپریل 2026ء تک کے لئے ہے، ہم امریکہ کے ساتھ اس معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے پر حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ کانگریس کے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ چابہار کوئی عام بندرگاہ نہیں ہے۔ یہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے لئے ایک اہم، براہ راست سمندری رابطہ فراہم کرتا ہے، جس سے ہمیں پاکستان کو بائی پاس کرنے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا مقابلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے سینیئر لیڈر نے کہا کہ اب یہ سننا کہ بھارت نے امریکی دباؤ کے پہلے اشارے پر چابہار سے غیر رسمی طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، یہ اس حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ پون کھیڑا نے اس معاملے میں بھارت کی بی جے پی حکومت سے بھی سوال کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بھارتی حکومت کب تک واشنگٹن کو ہمارے قومی مفادات پر فیصلے کرنے کی اجازت دے گی، تو سوال چابہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ مودی امریکہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں۔
اسی طرح کا دعویٰ کرتے ہوئے شیو سینا یو بی ٹی ایم پی پرینکا چترویدی نے بھی ٹویٹر پر لکھا کہ بھارت ایران میں چابہار بندرگاہ سے تقریباً باہر نکل چکا ہے، وہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کی قیمت پر ایک ملک کو خوش کرنے کے لئے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ چابہار بندرگاہ بھارت کو ایران کی مشرقی سرحدوں کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی فراہم کرتی ہے، ممبر آف پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ منصوبہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے لئے علاقائی سمندری ٹرانزٹ ٹریفک کو فروغ دینے کے لئے ایک اسٹریٹجک منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔
دریں اثنا حکمراں بی جے پی نے کانگریس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے اس معاملے پر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس کے دعوے کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ آپ کے لیڈر راہل گاندھی کی طرح جھوٹ بولنا، آپ کا چابہار پورٹ پر "ہتھیار ڈالنے" کا دعویٰ ایک خیالی تصور ہے۔ بی جے پی نے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا کے لUے اپنے اسٹریٹجک گیٹ وے کی حفاظت کرتے ہوئے، مکمل کنٹرول اور ترقی کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کو چلانے اور اس کو وسعت دینے کے لئے امریکہ کے ساتھ جاری بات چیت بھارت کی مضبوط سفارت کاری کو ظایر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے 24 دسمبر 2018ء کو ایران میں منعقدہ چابہار سہ فریقی معاہدے کے اجلاس کے دوران چابہار میں شاہد بہشتی بندرگاہ کے ایک حصے کا آپریشن سنبھالا تھا۔ بھارت نے چابہار بندرگاہ کے حوالے سے ایران کے ساتھ اپنی مصروفیات کا آغاز 2003ء میں کیا تھا۔ تاہم 2014ء کے آخر میں اس پروجکٹ کو رفتار ملی، جس کے نتیجے میں مئی 2015ء میں چابہار بندرگاہ کی ترقی کے لئے دونوں ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔ یہ ایم او یو چابہار بندرگاہ کے آپریشن کے لئے 10 سالہ رسمی معاہدے میں تبدیل ہوا، جسے 23 مئی 2016ء کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ یہ وزیراعظم نریندر مودی کے تہران کے دورے کے موقعے پر ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغانستان اور وسطی ایشیا چابہار بندرگاہ کہ بھارت نے بندرگاہ کے کرتے ہوئے نے کہا کہ بی جے پی کے لئے
پڑھیں:
تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔
چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔