data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں بھی کھیل کے جذبے پر تلخی حاوی نظر آئی، جہاں بھارت اور بنگلادیش کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران اسپورٹس مین اسپرٹ پر سوالات اٹھنے لگے۔

ہفتے کے روز ہونے والے اس مقابلے میں ٹاس کے موقع پر دونوں ٹیموں کے درمیان سرد مہری کھل کر سامنے آئی، جب بھارتی کپتان نے بنگلادیشی نائب کپتان زواد ابرار سے روایتی مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔

میچ میں بنگلادیش نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، تاہم ٹاس کے فوراً بعد میدان میں ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملا۔ بھارتی کپتان آیوش مہاترے اور بنگلادیشی نائب کپتان زواد ابرار کے درمیان واضح فاصلہ رہا، جبکہ بنگلادیشی کھلاڑی تمیم ہاتھ جیبوں میں ڈالے بغیر کسی رسمی مصافحے کے سیدھے واپس چلے گئے۔

یہ رویہ شائقینِ کرکٹ کے لیے حیران کن ثابت ہوا، کیونکہ عالمی سطح پر اس نوعیت کے مقابلوں میں روایتی آداب کی پابندی کو ہمیشہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طرزِ عمل ماضی میں زیادہ تر بھارت اور پاکستان کے میچز تک محدود رہا ہے، خاص طور پر ایشیا کپ جیسے ٹورنامنٹس میں، تاہم بنگلادیش اور بھارت کے درمیان اس نوعیت کی کشیدگی پہلی بار اس شدت سے سامنے آئی ہے، جس نے کھیل کی مجموعی فضا کو متاثر کیا۔

مبصرین کے مطابق اس غیر رسمی رویے کو دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تناؤ سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ بنگلادیش نے آئندہ ماہ بھارت میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا دورہ کرنے سے بھی انکار کر رکھا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے میچز کسی متبادل مقام پر کھیلنے کا خواہاں ہے۔

اس معاملے پر تاحال انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

دوسری جانب بنگلادیش میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی کو بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا ایک اور مظہر قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ بنگلادیشی فاسٹ بولر مصطفیٰ الرحمان کو آئی پی ایل اسکواڈ سے باہر رکھا گیا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کھیل کے میدان میں پیدا ہونے والی یہ سرد مہری اب محض کرکٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات اسپورٹس اور سفارتی تعلقات پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان فاصلے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی