پنجاب حکومت نےگورننس میں بہتری کے لیے اے آئی کو باضابطہ پالیسی کا حصہ بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے اے آئی، ڈیٹا اور سافٹ ویئر ماہرین پر مشتمل سیل قائم کر دیا۔پنجاب حکومت نے پہلی بار مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے ایک واضح اور جامع ادارہ جاتی فریم ورک قائم کر دیا۔ اس مقصد کے لیے اے آئی، ڈیٹا اور سافٹ ویئر ماہرین پر مشتمل خصوصی اے آئی سیل تشکیل دیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق گورننس میں بہتری کے لیے اے آئی کو باضابطہ پالیسی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ جس میں اے آئی انجینئرز، ڈیٹا سائنٹسٹس، ڈیٹا انجینئرز اور سافٹ ویئر ماہرین شامل ہیں۔ حکومت نے اصلاحی راستہ اختیار کرتے ہوئے اے آئی کے لیے ایک مرکزی ماڈل کی منظوری بھی دے دی ہے۔پنجاب حکومت نے نئی ٹیکنالوجی خریدنے کے بجائے ادارہ جاتی صلاحیت سازی کو ترجیح دیتے ہوئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) میں اے آئی ماہرین کی مستقل ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ اس ٹیم میں سلوشن آرکیٹیکٹس، پروگرام منیجرز، ٹیکنیکل لیڈز اور ڈیواپس ماہرین بھی شامل ہیں۔
کراچی، ایم اے جناح روڈ پر شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی، 7 افراد زخمی
حکومت کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ کہ اے آئی منصوبوں کو محکموں کی اصل ضروریات سے جوڑا جائے گا۔ جبکہ فیصلہ سازی میں متعلقہ محکموں اور اینڈ یوزرز کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ اے آئی سیل ان منصوبوں میں بطور تکنیکی معاون کردار ادا کرے گا۔ناکام ڈیجیٹل تجربات کے پیشِ نظر نیا گورننس ماڈل متعارف کرایا گیا ہے۔ جس میں اے آئی اور ڈیٹا اینالیٹکس ماہرین کے ذریعے نظام نافذ کیا جائے گا۔ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ بغیر ادارہ جاتی ملکیت کے ڈیجیٹل سسٹمز کامیاب نہیں ہو سکتے۔
مہنگا نیا ہارڈویئر خریدنے کے بجائے موجودہ انفراسٹرکچر کو مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے لیے ڈیٹا اور سسٹم انٹیگریشن ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ غیر ضروری اخراجات روکنے کے لیے لاگت سے ہم آہنگ ماڈل کی منظوری بھی دے دی گئی۔اے آئی یوز کیسز کے لیے فزیبلٹی، پروٹوٹائپ اور ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اے آئی منصوبے وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر تیار کیے جائیں گے۔ڈیجیٹل منصوبوں میں نتائج اور آؤٹ پٹس کو لازمی قرار دیتے ہوئے ہر ماہر کی ذمہ داریاں واضح طور پر طے کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے ٹیکنالوجی کو گورننس کی معاون قوت بنانے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو سرکاری نظام کا حصہ بنانے کی پالیسی اپنالی ہے۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت نے اے آئی کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔