Jasarat News:
2026-06-02@22:33:14 GMT

بحران اور اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان آج ایک نہ ختم ہونے والے بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں پانچ چھے نکات پر متفق ہیں۔ اس میں کوئی دور رائے نہیں ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور اجتماعی ویژن کی شدید کمی ہے۔ کراچی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی کے کہنے پر نہیں بنی اور نہ ہی کسی کی دشمنی میں تشکیل دی گئی۔ یہ عوام اور آئین کے تحفظ کے لیے ایک سنجیدہ اور خود مختار اقدام ہے۔ محمود خان اچکزئی کے بقول، پی ڈی ایم کے دور میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو ہٹانے میں شامل نہیں ہوں گے اور یہ موقف آج بھی ان کے سیاسی موقف کی وضاحت کرتا ہے کہ سیاسی عمل میں ذاتی ایجنڈے عوامی مفاد پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔ اس موقع پر اسد قیصر نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے نمائندے عوام کے لیے نہیں بیٹھے بلکہ عوام سے ووٹ کا حق چھینا گیا ہے۔ یہ سب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف سیاسی نظام میں خرابی ہے بلکہ اداروں کی آزادی بھی شدید حد تک محدود ہو چکی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے بھی کہی ہے کہ ’’قانون و آئین کی روشنی میں بھی یہ واضح ہے کہ حاکمیت کی اعلیٰ سطح اللہ تعالیٰ کی ہے اور کوئی فیصلہ قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، کوئی بھی آئینی ترمیم جو اس بنیادی اصول سے ٹکراتی ہو، وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ چاہے اس کے پیچھے کتنے ہی طاقتور لوگ ہوں، شریعت اور آئین کے مطابق یہ ترامیم بنیاد ہی سے غلط ہیں اور انہیں ختم ہونا چاہیے۔ قرآن و حدیث، سیرتِ رسولؐ اور خلفائے راشدین کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی فرد، خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، عدالت سے استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتا‘‘۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف صرف اسی وقت بات کرتی ہیں جب ان کی سرپرستی ان سے ہٹ جاتی ہے، لیکن جب سرپرستی میں آتی ہیں یا سمجھوتا ہو جاتا ہے تو وہ اسے بہت عزیز سمجھنے لگتی ہیں۔ یہ نفاق پر مبنی طرزِعمل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک عام رجحان بن چکا ہے اور اب اسے ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں سیاسی اتحادوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہم تمام سیاسی قوتوں سے گفتگو اور بات چیت کے حق میں ہیں۔ سیاست میں وضع داری اور رواداری ضروری ہیں۔ انتخابی نظام میں اصلاحات بھی اب وقت کی ضرورت ہیں۔ انتخابات کے نام پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کی روک تھام کے لیے انتخابات ’متناسب نمائندگی‘ کے اصول پر ہونے چاہئیں۔ ’متناسب نمائندگی‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری کا ووٹ شمار ہو، اور سب کے ووٹوں کی بنیاد پر پارٹی کی پوزیشن واضح ہو۔ اس سے مقتدر طبقے کو مجبور ہونا پڑے گا کہ وہ اپنی پارٹیوں کو خاندانی غلامی سے نکالیں اور پارٹی کے پروگرام کی بنیاد پر چلائیں۔ مگر وہ یہ کام کرنے سے گریزاں ہیں، اس لیے عوامی دبائو کے ذریعے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران کی بنیادی وجوہات میں نااہلی، بدانتظامی اور طاقتور عناصر کی مداخلت شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں اسد قیصر اور راجا ناصر عباس کے بیانات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ عوامی نمائندگی اور آئینی حقوق مسلسل پس ِ پشت ڈالے جا رہے ہیں۔ میڈیا کی آزادی محدود ہو گئی ہے، ادارے سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور عوام کی رائے کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس تمام پس منظر میں تحریک تحفظ آئین پاکستان ایک مثبت اور ضروری قدم ضرور ہے، جو بظاہر عوام کے بنیادی حقوق اور آئین کی بالا دستی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے لیکن اب عوام کو اس طرح کی تحریکوں اور پریس کانفرنس کے مندرجات پر بہت زیادہ اعتماد نہیں رہا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں ہر سیاسی چھپے و کھلے عمل کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی قوت موجود ہے۔ پاکستان کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہے۔ سیاسی مفاد، خاندانی کنٹرول، یا ذاتی ایجنڈے ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ آئین کی بالادستی کے بغیر کوئی سیاسی عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ عوام کے تعاون اور ذمے داری کے بغیر پاکستان بحرانوں سے نکل نہیں سکتا اور یہی وہ نقطہ ہے جس پر آج سب کو متفق ہونا ہوگا۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران محض جماعتوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ یہ نظامی، آئینی اور عوامی نمائندگی کے بحران کا نتیجہ ہے۔ آئین کی حفاظت کرنے اور شفاف سیاست کے راستے پر ہی چل کر ہی پاکستان بحرانوں سے نکل سکتا ہے اور ایک مستحکم، شفاف اور عوامی نمائندگی پر مبنی جمہوری نظام قائم ہو سکتا ہے۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں اور ا ئین اور عوام ا ئین کی عوام کے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ