جاپان اور اٹلی اقتصادی سلامتی اور خلائی امور میں تعاون پر متفق
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) جاپان اور اٹلی کے وزرائے اعظم نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کرلیا۔ انہوں نے لچک دارسپلائی چینز بنانے کے لیے تعاون کو مضبوط کرنے اور خلائی امور میں تعاون پر بات چیت کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جاپان کی وزیراعظم تاکااِچی سانائے نے ٹوکیو میں ایوانِ وزیراعظم میں اپنی اطالوی ہم منصب جارجیا میلونی کا خیرمقدم کیا۔ گارڈ آف آنر کے بعد دونوں کے درمیان سربراہ اجلاس تقریباً 30 منٹ تک جاری رہا۔ تاکااِچی نے شروع میں کہا کہ رواں سال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 160ویں سالگرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگ میل کے سال میں وہ میلونی کے دورے سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے خصوصی دوطرفہ تعلقات کی توثیق اور انہیں مزید مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔ ملاقات میں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو خصوصی تزویراتی شراکت داری تک بڑھانے اور وسیع تر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس میں سلامتی کا شعبہ بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ جاپانی سیلف ڈیفنس فورسز اور اطالوی فوج مشترکہ تربیت کا انعقاد کریں گی۔ جاپان اور اٹلی برطانیہ کے ساتھ مل کر جدید ترین لڑاکا طیارے کی مشترکہ تیاری پر بھی کام کر رہے ہیں۔ تاکااِچی اور میلونی نے منصوبے پر تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ اقتصادی سلامتی کے شعبے میں اہم معدنیات کے لیے ایک لچکدار سپلائی چین قائم کرنے کے لیے تعاون کو مضبوط کیا جائے گا۔ بظاہر اس کا پس منظر چین کی برآمدی پابندیاں ہیں۔ جاپان اور اٹلی ہنگامی حالات کی صورت میں ایک دوسرے کو مائع قدرتی گیس فراہم کرنے سمیت توانائی کے شعبے میں بھی اشتراک کریں گے۔رہنماؤں نے خلائی امور میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا مشاورتی ادارہ تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا۔ اس شعبے میں دونوں ممالک علم اور مہارت رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک میں تعاون اتفاق کیا تعاون کو کے لیے
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔