کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ایک بیان میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کے لیے بچوں سے زیادتی ناقابلِ قبول ہے، بچوں کے تحفظ کے لیے حکومتِ سندھ نے کئی اقدامات کیے ہیں، پولیس ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے، شہر میں کسی درندے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ چائلڈ ابیوز کے کیسز کسی صورت برداشت نہیں کروں گا، کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ابھی تک صرف 7 متاثرین سامنے آئے ہیں، پولیس باقی متاثرین کو تلاش کرے، ملزم کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لے جایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اے آئی جی کو ہدایت دی کہ مجھے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی پیشرفت رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے لیے بچوں سے زیادتی ناقابلِ قبول ہے، بچوں کے تحفظ کے لیے حکومتِ سندھ نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے، شہر میں کسی درندے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے بچوں سے زیادتی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔