Jasarat News:
2026-07-23@23:54:50 GMT

شامی فوج حلب میں داخل‘ سیکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ قصبہ دیر حافر سے دریائے فرات کے مغربی علاقے میں داخل ہو گئی ہے۔ اہل کاروں نے حلب میں مسکنہ اور دبسی عفنان کے 2علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے اور الجراح فوجی ائر بیس پر کنٹرول کے قریب ہے۔وزارتِ دفاع نے بھی مشرقی حلب کے مضافات میں واقع قصبہ دیر حافر میں فوج کی تعیناتی کے آغاز اور اسے محفوظ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ ایس ڈی ایف کے سیکڑوں اہل کاروں نے خود کو فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ دوسری جانب شامی صدر احمد الشرع نے ایک خصوصی فرمان جاری کردیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کرد نژاد شامی شہری شامی قوم کا ایک بنیادی اور اصل حصہ ہیں۔ ان کی ثقافتی و لسانی شناخت کثیر جہتی اور متحد شامی قومی شناخت کا اٹوٹ انگ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاست ثقافتی اور لسانی تنوع کے تحفظ کی پابند ہے اور قومی خودمختاری کے فریم ورک کے اندر کرد شہریوں کے اپنے ورثے، فنون کے احیا اور اپنی مادری زبان کو فروغ دینے کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ کرد زبان کو ایک قومی زبان تصور کیا جائے گا اور ان علاقوں میں جہاں کردوں کی نمایاں آبادی ہے، وہاں کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں اسے اختیاری نصاب کے حصے کے طور پر یا ثقافتی تعلیمی سرگرمی کے طور پر پڑھانے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح ان تمام قوانین اور غیر معمولی اقدامات کو منسوخ کر دیا گیا جو صوبہ حسکہ میں 1962 ء کی مردم شماری کے نتیجے میں نافذ ہوئے تھے۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ شام میں مقیم تمام کرد وں کو شامی شہریت دی جائے گی اور انہیں حقوق و فرائض میں مکمل برابری حاصل ہوگی۔ ادھر شامی صدر احمد الشرع منگل کے روز اپنے پہلے دورہ جرمنی میں برلن پہنچیں گے۔ وہ اپنے دورے کے دوران جرمنی سے شامی باشندوں کی ملک بدری کا عمل تیز کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔ جرمن صدر کے دفتر نے بتایا کہ احمد الشرع کی اپنے ہم منصب فرینک والٹر سٹین میئر سے ملاقات طے شدہ ہے۔چانسلر فریڈرک مرز کے دفتر نے تاحال یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ آیا وہ بھی اس دورے کے دوران الشرع سے مذاکرات کریں گے۔ اس دورے کے لیے جرمن حکومت کی توجہ شامیوں کی وطن واپسی تیز کرنے پر مرکوز ہو گی جو بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے مرز کے قدامت پسند اتحاد کی ترجیح ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں تقریباً 10 لاکھ شامی باشندے جرمنی ہجرت کر گئے جن میں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ 2015ء میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے وہاں پہنچے۔ جرمن چانسلر مرز کو امیگریشن پر انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی پارٹی کی علاحدگی کا خدشہ ہے اور انہوں نے اصرار کیا کہ جنگ سے بھاگ کر آنے والے شامیوں کے لیے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کی اب کوئی وجہ نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے ملک واپس جانے سے انکار کریں، ہم یقیناً انہیں ملک بدر کر سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان