Jasarat News:
2026-06-02@20:45:54 GMT

شامی فوج حلب میں داخل‘ سیکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ قصبہ دیر حافر سے دریائے فرات کے مغربی علاقے میں داخل ہو گئی ہے۔ اہل کاروں نے حلب میں مسکنہ اور دبسی عفنان کے 2علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے اور الجراح فوجی ائر بیس پر کنٹرول کے قریب ہے۔وزارتِ دفاع نے بھی مشرقی حلب کے مضافات میں واقع قصبہ دیر حافر میں فوج کی تعیناتی کے آغاز اور اسے محفوظ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ ایس ڈی ایف کے سیکڑوں اہل کاروں نے خود کو فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ دوسری جانب شامی صدر احمد الشرع نے ایک خصوصی فرمان جاری کردیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کرد نژاد شامی شہری شامی قوم کا ایک بنیادی اور اصل حصہ ہیں۔ ان کی ثقافتی و لسانی شناخت کثیر جہتی اور متحد شامی قومی شناخت کا اٹوٹ انگ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاست ثقافتی اور لسانی تنوع کے تحفظ کی پابند ہے اور قومی خودمختاری کے فریم ورک کے اندر کرد شہریوں کے اپنے ورثے، فنون کے احیا اور اپنی مادری زبان کو فروغ دینے کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ کرد زبان کو ایک قومی زبان تصور کیا جائے گا اور ان علاقوں میں جہاں کردوں کی نمایاں آبادی ہے، وہاں کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں اسے اختیاری نصاب کے حصے کے طور پر یا ثقافتی تعلیمی سرگرمی کے طور پر پڑھانے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح ان تمام قوانین اور غیر معمولی اقدامات کو منسوخ کر دیا گیا جو صوبہ حسکہ میں 1962 ء کی مردم شماری کے نتیجے میں نافذ ہوئے تھے۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ شام میں مقیم تمام کرد وں کو شامی شہریت دی جائے گی اور انہیں حقوق و فرائض میں مکمل برابری حاصل ہوگی۔ ادھر شامی صدر احمد الشرع منگل کے روز اپنے پہلے دورہ جرمنی میں برلن پہنچیں گے۔ وہ اپنے دورے کے دوران جرمنی سے شامی باشندوں کی ملک بدری کا عمل تیز کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔ جرمن صدر کے دفتر نے بتایا کہ احمد الشرع کی اپنے ہم منصب فرینک والٹر سٹین میئر سے ملاقات طے شدہ ہے۔چانسلر فریڈرک مرز کے دفتر نے تاحال یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ آیا وہ بھی اس دورے کے دوران الشرع سے مذاکرات کریں گے۔ اس دورے کے لیے جرمن حکومت کی توجہ شامیوں کی وطن واپسی تیز کرنے پر مرکوز ہو گی جو بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے مرز کے قدامت پسند اتحاد کی ترجیح ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں تقریباً 10 لاکھ شامی باشندے جرمنی ہجرت کر گئے جن میں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ 2015ء میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے وہاں پہنچے۔ جرمن چانسلر مرز کو امیگریشن پر انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی پارٹی کی علاحدگی کا خدشہ ہے اور انہوں نے اصرار کیا کہ جنگ سے بھاگ کر آنے والے شامیوں کے لیے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کی اب کوئی وجہ نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے ملک واپس جانے سے انکار کریں، ہم یقیناً انہیں ملک بدر کر سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق