data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (آن لائن) وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزا فاطمہ خواجہ نے ایکسپو سینٹر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر بچے بچی کو جدید سہولیات فراہم کرنا ٹارگٹ ہے۔ یہ سب اکیلے حکومت نے نہیں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے کرنا ہے۔ ہم 24 کروڑ لوگ ہیں، 15 کروڑ بچے اور بچیاں یوتھ کے ایج گروپ میں آتے ہیں، 8 لاکھ خواتین کو ہم نے ٹرین کیا اور ڈیجیٹل اسکلز ڈیولپمنٹ سکھائی۔ 8 لاکھ خواتین ڈیجیٹل والٹ کا حصہ بن چکی ہیں، حکومت پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے ڈیجٹل انقلاب لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سہولیات فراہم کر ے گی، پاکستان کی برینڈنگ کرنے کا مقصد دنیا میں پاکستان کا ٹرسٹ بحال کرنا ہے، ہماری نیشنل اکانومی ٹیکنالوجی کو ٹرانسفر کررہی ہے، ایک مکمل نیشنل لیول فیڈریشن کی اونر شپ شامل کی گئی ہے۔شیزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی زندگی آسان کیسے ہوسکتی ہے۔ پبلک سروس ریڈ ٹیپ ازم اور کرپشن کے بغیر لوگوں کی زندگی آسان کرسکتا ہے، ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اس طریقے سے بنانا چاہتے ہیں کہ بہتر سے بہتر سروس ملے۔شیزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ پچھلے 2 سال میں ہم نے3 لاکھ بچوں کو ٹرینگ دی، اس سال ہم ساڑھے 7 لاکھ بچوں کو ٹریننگ دیں گے، ہم نے پاکستان کے برینڈ میں انوسٹ کرنا ہے اور ہم نے آؤٹ ڈور برینڈنگ پر بہت زیادہ فوکس کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکول کالج یونیورسٹی لیول پر تمام جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سسٹم کے تحت تعلیم دیں گے۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ 
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن