خوفناک آگ لگنے کے بعد پلازہ کے اندر کے ابتدائی مناظر کی فوٹیجز سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کو 9 گھنٹے گزر جانے کے باوجود تاحال قابو میں نہیں لایا جا سکا، جبکہ آتشزدگی کے بعد پلازہ کے اندر کے ابتدائی اور دل دہلا دینے والے مناظر کی فوٹیجز سامنے آ گئی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ لگنے کے ابتدائی لمحات میں پوری عمارت دھویں سے بھر چکی تھی۔
ایک فوٹیج میں ایک شخص تیز آواز میں دکانداروں اور خریداروں کو خبردار کرتا سنائی دیتا ہے کہ آگ لگ گئی ہے، فوراً باہر نکلیں، جس کے بعد افراتفری اور بھگدڑ کا منظر پیدا ہو جاتا ہے۔
ویڈیوز میں شہریوں کو جان بچانے کے لیے دوڑتے، ایک دوسرے کو دھکے دیتے اور دھویں سے بچنے کے لیے منہ کپڑوں سے ڈھانپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ مناظر اس خوف اور بے بسی کی عکاسی کرتے ہیں جو چند لمحوں میں پورے پلازہ پر طاری ہو گئی۔
واضح رہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کے باعث دم گھٹنے سے 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی شدید حدت کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی ہے، ستونوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں اور کسی بھی وقت عمارت کے منہدم ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
دوسری جانب گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر نے تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کے اندر اب بھی 80 سے 100 افراد کے موجود ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔