لاہور:

شدید دھند کے باعث موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

ترجمان موٹروے پولیس سنٹرل ریجن سید عمران احمد کے مطابق لاہور۔سیالکوٹ موٹروے ایم 11 بھی دھند کے باعث بند ہے۔

ترجمان کے مطابق ایسٹرن بائی پاس کو بھی دھند کے باعث بند کر دیا گیا ہے، جبکہ موٹروے ایم 3 فیض پور سے سمندری اور موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے گوجرہ تک ٹریفک کے لیے بند ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ موٹرویز کی بندش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق قومی شاہراہ پر لاہور، مانگا منڈی، پھول نگر اور پتوکی میں شدید دھند چھائی ہوئی ہے، جبکہ جمبر، رینالہ خورد، اوکاڑہ، ساہیوال، چیچہ وطنی، کسوال اور اقبال نگر میں بھی دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو چکی ہے۔

دھند کے باعث موٹرویز بند ہونے سے ٹریفک کا غیر متوقع دباؤ قومی شاہرات پر منتقل ہو گیا ہے، تاہم موٹروے پولیس قومی شاہرات پر ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔

ترجمان کے مطابق بعض مقامات پر قومی شاہرات پر ٹکڑوں کی صورت میں دھند موجود ہے جو ڈرائیونگ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دھند کی صورتحال میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو ترجیح دیں۔

ترجمان سید عمران احمد کا کہنا ہے کہ دھند کے موسم میں دن کے وقت سفر کو ترجیح دی جائے، جبکہ بہترین اور محفوظ سفری وقت صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ہے۔

موٹروے پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال سے متعلق تازہ معلومات ضرور حاصل کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: موٹروے پولیس دھند کے باعث موٹروے ایم ٹریفک کے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار