شدید دھند کے باعث متعدد موٹر وے مختلف مقامات سے ٹریفک کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
لاہور:
شدید دھند کے باعث موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس سنٹرل ریجن سید عمران احمد کے مطابق لاہور۔سیالکوٹ موٹروے ایم 11 بھی دھند کے باعث بند ہے۔
ترجمان کے مطابق ایسٹرن بائی پاس کو بھی دھند کے باعث بند کر دیا گیا ہے، جبکہ موٹروے ایم 3 فیض پور سے سمندری اور موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے گوجرہ تک ٹریفک کے لیے بند ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ موٹرویز کی بندش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق قومی شاہراہ پر لاہور، مانگا منڈی، پھول نگر اور پتوکی میں شدید دھند چھائی ہوئی ہے، جبکہ جمبر، رینالہ خورد، اوکاڑہ، ساہیوال، چیچہ وطنی، کسوال اور اقبال نگر میں بھی دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو چکی ہے۔
دھند کے باعث موٹرویز بند ہونے سے ٹریفک کا غیر متوقع دباؤ قومی شاہرات پر منتقل ہو گیا ہے، تاہم موٹروے پولیس قومی شاہرات پر ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں مصروف ہے۔
ترجمان کے مطابق بعض مقامات پر قومی شاہرات پر ٹکڑوں کی صورت میں دھند موجود ہے جو ڈرائیونگ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دھند کی صورتحال میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو ترجیح دیں۔
ترجمان سید عمران احمد کا کہنا ہے کہ دھند کے موسم میں دن کے وقت سفر کو ترجیح دی جائے، جبکہ بہترین اور محفوظ سفری وقت صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ہے۔
موٹروے پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال سے متعلق تازہ معلومات ضرور حاصل کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس دھند کے باعث موٹروے ایم ٹریفک کے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔