سمندر پار پاکستانی قوم کا قیمتی اثاثہ، ہرمشکل میں ساتھ رہے: گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
پیرس(آئی این پی) گورنر پنجاب سردارسلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں جو مشکلات کے باوجود ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔گورنرپنجاب کے اعزاز میں پیرس میں پاکستان بزنس فورم کے زیرِ اہتمام ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں یورپ بھر سے تعلق رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردارسلیم حیدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی جب اقتدار میں آئے گی تو اوورسیزپاکستانیوں کی جائیدادوں پرقبضہ مافیا سے متعلق شکایات کا مستقل اورشفاف حل نکالا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو کبھی مایوس نہیں کیا جائے گا اور پیپلزپارٹی ہمیشہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے آوازبلند کرتی رہے گی، ہمیں دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہے اوراوورسیز پاکستانی اس حوالے سے پاکستان کے بہترین سفیر ہیں۔معرکہ حق کے بعد پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جو پوری قوم کیلئے فخرکا باعث ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی قیادت میں پاکستان نے ایک طاقتوردشمن کو شکست دی، جس سے ثابت ہوا کہ جب قوم متحد ہوجائے توکوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔