وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے جنید صفدر دلہن بیاہ لائے،دعوت ولیمہ آج ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر مسلم لیگ ن محمد نواز شریف کے نواسے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر دلہن بیاہ لائے، جنید صفدر کی ولیمہ کی تقریب آج جاتی امرا فارم ہاؤس رائے ونڈ میں ہو گی۔
محمد نواز شریف کے نواسے اور مریم نواز و کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے صاحبزادے جنید صفدر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے، ان کی شادی مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے شیخ سے لاہور میں ہوئی، جنید صفدر کا نکاح چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ راغب حسین نعیمی نے پڑھایا۔
دلہا جنید صفدر نے سفید شیروانی، سفید شلوار قمیص اور سفید کلاہ پہن رکھا تھا، جبکہ دلہن شانزے شیخ دلکش سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس تھیں۔
143گیندوں پر 192رنز، سری لنکن بلے باز نے انڈر 19 ورلڈ کپ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
اس سے پہلے جنید صفدر کی بارات رائے ونڈ روڈ پر واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پہنچی، باراتیوں میں محمد نواز شریف ، وزیراعظم محمد شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگ زیب اور صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری سمیت دیگروفاقی و صوبائی وزرا اور ملکی و غیر ملکی مہمان شامل تھے۔
واضح ہے کہ گزشتہ شب جنید صفدر کی مہندی کی تقریب جاتی امرا فارم ہاؤس میں ہوئی جہاں دلہا، دلہن کا فوٹو شوٹ بھی کیا گیا تھا ،جبکہ ولیمہ کی تقریب 18 جنوری کو جاتی امرا میں ہی ہو گی۔
کمالیہ: مبینہ طور پر شادی سے انکار پر لڑکی کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔