data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی :ایران کی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل چابہار بندرگاہ سے بھارت کی عملی علیحدگی کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں شدید سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے اس معاملے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام اور کمزور قرار دیا گیا ہے۔

کانگریس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں سخت جملے استعمال کیے گئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ نریندر نے پھر ٹرمپ کے آگے سرینڈر کر دیا،  مودی حکومت نے چابہار پورٹ کے معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا مگر اب جب بھارت نے بندرگاہ کا کنٹرول چھوڑ دیا ہے تو وزیر اعظم اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

 کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی دراصل ایک ناکام خارجہ پالیسی کا اعتراف ہے، امریکا کے دباؤ اور پابندیوں کے سامنے جھک کر مودی حکومت نے بھارت کے طویل المدتی قومی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔

اپوزیشن جماعت نے مزید کہا کہ چابہار بندرگاہ نہ صرف بھارت کی وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ تھی بلکہ یہ منصوبہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے تجارتی اور تزویراتی فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔

واضح رہے کہ سال 2024 میں بھارت نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 10 سال کے لیے چابہار بندرگاہ کے انتظامات سنبھالے تھے۔ اس معاہدے کو اس وقت مودی حکومت نے خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا تھا، امریکا کی جانب سے ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کیے جانے کے بعد بھارت نے عملی طور پر چابہار پورٹ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو معاہدے کے تحت طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی تھی۔ اس ادائیگی کے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مودی حکومت بھارت نے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف