چاہ بہار بندرگاہ کی بندش سے بھارت اور افغانستان کو کتنا نقصان ہوسکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
ایران کی چاہ بہار بندرگاہ پر کام کرنے والی بھارتی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے عملی طور پر غیر فعال ہو جانے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ چاہ بہار منصوبہ محض سفارتی دباؤ کا شکار نہیں بلکہ زمینی سطح پر بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اس کے سب سے زیادہ اثرات بھارت اور افغانستان کی تجارت پر پڑ رہے ہیں، کیونکہ اسی راہداری کے ذریعے اربوں ڈالر کی دوطرفہ تجارت کی جاتی ہے۔
امریکی پابندیوں اور تجارتی دباؤامریکی پابندیوں، اضافی ٹیرف کی دھمکیوں اور مالی خطرات کے باعث بھارت کی ایران کے راستے افغانستان تک رسائی محدود ہو رہی ہے۔ افغانستان کی درآمدات و برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ بھارت کی کم منافع والی برآمدات، خصوصاً چائے، چاول اور زرعی اجناس، لاجسٹک لاگت میں اضافے کی وجہ سے عالمی منڈی میں مسابقت کھو رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی ہے، جس سے بھارت کی پہلے ہی دباؤ میں موجود برآمدات مزید متاثر ہوئی ہیں۔
چاہ بہار کی قانونی حیثیتستمبر 2025 میں امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں سخت کرتے ہوئے چاہ بہار کے لیے 2018 سے جاری خصوصی استثنیٰ واپس لے لیا۔ بعد میں بھارت کو عارضی رعایت دی گئی، جس کے تحت اپریل 2026 تک محدود سرگرمیوں کی اجازت ہے۔ تاہم یہ رعایت مستقل حل نہیں بلکہ عبوری مہلت کے مترادف ہے۔
بھارت کی عملی پسپائیتا حال کسی مستند سرکاری یا بین الاقوامی ذریعے سے یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ بھارت کو باضابطہ طور پر چاہ بہار سے نکالا گیا ہے یا بندرگاہ بند کی جا رہی ہے۔ تاہم بھارتی کمپنی کے بورڈ اراکین کے استعفے اور ادارہ جاتی سرگرمیوں کے خاتمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت عملی طور پر منصوبے سے پسپائی اختیار کر چکا ہے۔
سرمایہ کاری اور مالی نقصانبھارت نے مئی 2024 میں ایران کے ساتھ 10 سالہ آپریشنل معاہدہ کیا، جس کے تحت تقریباً 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ موجودہ حالات میں بھارت نہ صرف سرمایہ کاری کے فوائد سے محروم ہو رہا ہے بلکہ اس کے اسٹریٹجک منصوبے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
تجارتی سرگرمی اور افغانستان پر اثراترسمی طور پر بھارت محدود سطح پر چاہ بہار کے شاہد بہشتی ٹرمینل سے انسانی امداد اور کچھ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن کمپنی ڈھانچے کے بکھرنے کے بعد یہ سرگرمیاں عملی طور پر سکڑ گئی ہیں۔
مالی سال 2023-24 میں چاہ بہار سے 2.
اگر امریکی پابندیاں سخت ہو جائیں یا بھارت کی عارضی رعایت ختم ہو جائے تو چاہ بہار میں بین الاقوامی شپنگ اور بینکاری سرگرمیاں محدود ہو جائیں گی، افغانستان کی درآمدات و برآمدات مہنگی ہو جائیں گی، اور ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت دباؤ کا شکار ہو گی۔ اس کے علاوہ خطے میں متبادل راستوں کی تلاش سیاسی کشیدگی پیدا کر سکتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا کیونکہ یہ پہلے ہی کمزور معیشت کا حامل ہے۔
چاہ بہار بندرگاہ فی الحال بند نہیں ہوئی اور بھارت کو رسمی طور پر بے دخل نہیں کیا گیا، مگر بھارتی کمپنی کی عملی بندش پسپائی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ منصوبہ اب بھارت کے لیے صرف اسٹریٹجک راستہ نہیں بلکہ ایک معاشی امتحان بن چکا ہے، جبکہ افغانستان کے لیے اس بندرگاہ کا کمزور ہونا براہِ راست تجارتی نقصان اور مہنگی رسائی کا سبب بنتا ہے۔
یوں چاہ بہار بندرگاہ ایران کے علاوہ پورے خطے کے مستقبل سے جڑی ایک کلیدی کڑی بن گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چاہ بہار بندرگاہ اور افغانستان بھارت کی ایران کے کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔