افغان مہاجر یا سیکیورٹی خطرہ؟ یورپ میں خطرے کی گھنٹی بج گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد ابھرنے والی انتہا پسند سوچ یورپ سمیت مختلف خطوں کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد یورپی ممالک میں افغان مہاجرین سے متعلق سیکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور عرب نیوز کے مطابق جرمنی کے شہر میونخ میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے والے افغان شہری کے خلاف عدالت میں مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے دانستہ طور پر لوگوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کی بیٹی ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ افغان شہری پر اس سے قبل بھی دو قتل اور 44 قتل کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ واقعے کے بعد جرمن چانسلر نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان مہاجرین کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک ماہ قبل جرمنی کے شہر آشفن برگ میں ایک اور افغان شہری نے چاقو حملے میں دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ برس واشنگٹن میں ایک افغان شہری کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے مرد اور خاتون اہلکار جان سے گئے تھے۔
ان واقعات کے بعد پاکستان، ایران، امریکا، برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف گرفتاری اور ملک بدری کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں سے ہمسایہ اور دیگر ممالک کو شدید سیکیورٹی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان شہری کے بعد
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔